آپ کے مسائل اور ان کا حل
سوال: ایک خاتون نے 2018 ء میں ایک ایسے مرد سے نکاح کیا جو بیرون ملک رہائش پذیر تھا اور آج بھی ہے، وہ نکاح کے بعد صرف دو روز اپنی بیگم کے ساتھ رہا اور دو دنوں کے بعد واپس بیرون ملک چلا گیا، لیکن اس کے بعد اس کے شوہر نے 2023ء تک صرف فون پر رابطہ برقرار رکھا، لیکن 2023ء سے اب تک وہ اس خاتون سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں رکھتا، نہ اس سے فون، فیس بک، میسنجر یا واٹس ایپ پر کوئی جواب دیتا ہے، اگر وہ خاتون کسی نئے نمبر سے فون پر بات کرنے کی کوشش کرتی ہے تو اس کی آواز سنتے ہی فون بند کر دیتا ہے، وہ خاتون اپنی پوری کوشش کے باوجود اپنے شوہر سے رابطہ نہیں کر سکی۔
ایسی صورتِ حال میں خاتون کو کیا کرنا چاہیے؟ موجودہ شوہر نہ ہی طلاق دیتا ہے اور نہ ہی اس سے رابطہ رکھنا چاہتا ہے۔ برائے مہربانی راہ نمائی فرمائیں، تاکہ خلاف شرع عمل کی مرتکب نہ ہوں؟
جواب : سوال میں ذکر کردہ تفصیل اگر واقعے کے مطابق اور درست ہے تو مذکورہ عورت کے شوہر کا رویہ شرعاً درست نہیں ہے، نکاح کے بعد بیوی کا نفقہ اور رہائش کا انتظام شوہر کے ذمے لازم ہوتا ہے، نکاح برقرار ہوتے ہوئے بیوی کو میکے میں چھوڑ دینا ، رابطہ بھی نہ کرنا اور خرچہ وغیرہ بھی نہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے، نیز شوہر کے لیے بیوی کی اجازت کے بغیر چار ماہ سے زیادہ اس سے دور رہنا بھی جائز نہیں ہے، یہ بیوی کی حق تلفی ہے جس پر شوہر گناہ گار ہوگا۔
اگر کسی وجہ سے شوہر کے لیے نباہ مشکل ہو تو بیوی کے معاملے کو لٹکانے کے بجائے طلاق دے کر اُسے اپنی زندگی گزارنے کے لیے آزاد کردینا چاہیے، بیوی کی حق تلفی کرنا، رابطہ منقطع کردینا، نہ خرچہ دینا اور نہ ہی طلاق پر رضامند ہونا یہ مسلسل اور مستقل گناہ شوہر کے کاندھے پر ہے۔
شوہر کو اس سلسلے میں مثبت فیصلہ کرنا چاہیے، اوّلاً اسے حُسنِ معاشرت کے ساتھ نباہ کرنا چاہیے، بصورتِ دیگر باہمی رضامندی اور اِحسان کے ساتھ یہ رشتہ ختم کردینا چاہیے، اگر وہ معاملہ اسی طرح لٹکائے رکھتا ہے تو اسے یہ سوچنا چاہیے کہ کہیں آخرت میں اس کا معاملہ بھی اس طرح لٹکا نہ دیا جائے۔
بہرحال اگر شوہر طلاق یا خلع دینے پر رضامند نہ ہو، اور بیوی شوہر کی کسی قسم کی نافرمانی کے بغیر اپنے میکے میں ہو، اور شوہر بیوی کو نفقہ نہ دیتا ہو تو مذکورہ خاتون کسی مسلمان جج کی عدالت میں شوہر کے نان ونفقہ نہ دینے کی بنیاد پر کیس دائر کرکے نکاح فسخ کراسکتی ہے، اس کا طریقہ یہ ہے کہ بیوی عدالت میں رجوع کرکے اس شخص سے اپنا نکاح اور شوہر کا نفقہ نہ دینا ثابت کرے، اور متعلّقہ جج معاملے کی اچھی طرح تحقیق کرے۔
اگر عورت کا دعویٰ شرعی گواہی سے درست ثابت ہوجائے کہ اس کا شوہر باوجود وسعت کے نہ تو اپنی منکوحہ کو اپنے ساتھ رکھتا ہے، اور نہ خرچہ دیتا ہے تو عدالت اس کے شوہر سے کہے کہ بیوی کے حقوق ادا کرو یا طلاق دو ، ورنہ ہم تفریق کردیں گے، اس کے بعد بھی اگر وہ کسی صورت پر عمل نہ کرے تو مسلمان جج اس عورت پر طلاق واقع کردے۔ (ماخوذ از حیلۂ ناجزہ، ص: 73،74، ط: دارالاشاعت)
اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
iqra@banuri.edu.pk