• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

زندگی میں اپنی مملوکہ جائیداد اولاد میں تقسیم کرنی ہوتو کیا مرحومہ بیٹی کا حصہ ہوگا؟

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: میرے والد صاحب جو ماشاءاللہ حیات ہیں، وہ اپنی وراثت کا حصہ اپنی زندگی میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں، لیکن میری بہن جو فوت ہو گئی ہے اور اس کے شوہر نے دوسری شادی کر لی ہے، اب اس کا حصہ اس کے بچوں کو دیں گے یا بچوں کے باپ کو جس نے دوسری شادی کر لی ہے؟ میری بہن میرے والد صاحب کی زندگی میں فوت ہو چکی ہے۔ براہِ کرم اس کے بارے میں ہماری رہنمائی فرما دیجیے!

جواب: ہر شخص اپنی زندگی میں اپنی جائیداد کا خود مالک ومختار ہوتا ہے اور اس میں ہر جائز تصرف کرسکتا ہے۔ اس کی زندگی میں اولاد وغیرہ کا اس کی جائیداد میں حصہ نہیں ہوتا، اور نہ ہی کسی کو مطالبے کا حق حاصل ہوتاہے، تاہم اگر والد اپنی زندگی میں اپنی جائیداد اپنی خوشی و رضا سے اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے، لیکن اپنی زندگی میں جائیداد کی تقسیم میراث نہیں ہوتی، بلکہ ہبہ (گفٹ) کہلاتی ہے۔ 

رسول اللہ ﷺ نے اولاد کو کوئی چیز ہبہ کرنے میں برابری کا حکم دیا ہے، البتہ اگر کسی بیٹے یا بیٹی کو کسی معقول شرعی وجہ (مثلاً کسی کی شرافت و دِین داری یا زیادہ خدمت گزار ہونے)کی بناء پر دوسروں کی بہ نسبت کچھ زیادہ دینا چاہے تو اس کی اجازت ہے، بشرط یہ کہ دیگر اولاد کو نقصان پہنچانا مقصود نہ ہو ، اسی طرح کسی کو بالکلیہ محروم کرنا بھی جائز نہیں۔

صورتِ مسئولہ میں اگرآپ کے والد اپنی مملوکہ جائیداد اپنی رضامندی سے اپنی اولاد میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو اس کا شرعی طریقہ یہ ہے کہ اپنی جائیداد میں سے اپنے لیے جتنا چاہیں رکھ لیں، تاکہ بوقتِ ضرورت کام آئے، اور باقی مال اپنی تمام اولاد میں برابر تقسیم کردیں، یعنی جتنا بیٹے کو دیں، اتنا ہی بیٹی کو بھی دیں، نہ کسی کو محروم کریں اور نہ ہی بلاوجہ کمی بیشی کریں، نیز اپنی مرحومہ بیٹی کی اولاد کو اپنی جائیداد میں سے اگر کچھ دینا چاہیں تو حسبِ صواب دید انہیں بھی ہبہ کرسکتے ہیں، اس صورت میں بہتر ہوگا کہ اپنے مال کے ایک تہائی کے اندر جتنا مناسب سمجھیں دے دیں۔ 

یہ بھی جائز ہے کہ دیگر بیٹیوں میں سے ہر ایک کو جتنا حصہ دے رہے ہیں اتنا ہی مرحومہ بیٹی کی اولاد کے درمیان برابر تقسیم کردیں۔ سائل کی مرحومہ بہن کی اولاد اگر ابھی سمجھ دار نہیں ہے تو ان کے والد (سائل کے بہنوئی) کو بحیثیت ولی ہبہ کی رقم حوالے کی جاسکتی ہے۔

یہ بھی ملحوظ رہے کہ زندگی میں اپنی اولاد کے درمیان جو جائیداد تقسیم کرے اسے چاہیے کہ ہر ایک کو اس کا حصہ الگ الگ کرکے قبضہ وتصرف کے ساتھ مالک بناکر دے دے، قبضہ دیے بغیر صرف نام کردینے سے ہبہ (گفٹ) شرعاً مکمل نہیں ہوتا۔

روایت میں ہے کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہما کے والد حضرت بشیر رضی اللہ عنہ انہیں رسولِ کریمﷺ کی خدمت میں لائے اور عرض کیا کہ میں نے اپنے اس بیٹے کو ایک غلام عطا کیا ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا آپ نے اپنے سب بیٹوں کو اسی طرح ایک ایک غلام دیا ہے؟ 

 انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: تو پھر (نعمان سے بھی) یہ غلام واپس لے لو۔ ایک اور روایت میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔ (مشکوٰۃ المصابیح، باب العطایا، 1 /261، ط: قدیمی - مظاہر حق، 3/193، باب العطایا، ط: دارالاشاعت)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید