• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا عصمت اللہ نظامانی

’’حسنِ نیت ‘‘ بظاہر یہ ایک عام اور سادہ سا لفظ لگتا ہے، لیکن اگر ہم اس کے معانی پر غور وفکر کریں، اور قرآن وسنّت کی روشنی میں اس کی اہمیت وفضیلت کا گہرائی سے مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ یہ محض ایک عنوان اور سادہ لفظ نہیں، بلکہ اپنے اندر مفاہیم ومعانی کی کائنات سموئے ہوئے ہے۔

تمام عبادات اور اعمالِ صالحہ کی بنیاد اور قبولیت کی شرط ہی ’’حسنِ نیت‘‘ ہے، بلکہ عادت کو عبادت میں تبدیل کرنے والی، مباح کام کو کارِ ثواب بنانے والی چیز ’’حسنِ نیت‘‘ ہی ہے۔ حسنِ نیت یعنی اچھی، خالص، بےریا نیت، کھوٹ اور دھوکا دہی سے پاک دل، پُرخلوص ارادہ اور پاکیزہ قلب۔

اگر ہم قرآن پاک اور احادیثِ مبارکہ پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ نیت کی وجہ سے ہی انسان کو ابدی نعمتیں حاصل ہوسکتی ہیں، اور یہی نیت دائمی عذاب کا باعث بن سکتی ہے۔

نیت کی وجہ سے بسا اوقات خالص ذاتی اُمور پر عمل بھی بہترین نیکی اور اجر وثواب مل جاتا ہے، اور اسی نیت کی بناء پر کبھی اعمالِ صالحہ، حتیٰ کہ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور جہاد جیسی عظیم عبادت بھی ضائع اور باعثِ عذاب اور وبال بن جاتی ہے، جیساکہ صحیح بخاری کی پہلی حدیث میں یہ بات آئی ہے : اعمال کا دارومدار نیت پر ہے۔

لہٰذا ہر مسلمان کی یہ اوّلین ذمہ داری ہے کہ اپنی نیت وارادہ کو درست کرنے کی کوشش کرے، اور حسنِ نیت جیسی عظیم نعمت پانے کے لیے محنت کرے۔ ذیل میں احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں حسنِ نیت کی اہمیت وفضیلت بیان کی جارہی ہے۔

نیت کے مطابق حشر ہونا

دنیا میں تو انسان کے ظاہری اعمال کے مطابق فیصلہ کیا جاتا ہے، اگر کوئی مسلمان بظاہر اچھے اعمال کر رہا ہے اور برائیوں سے بچ رہا ہے تو اسے نیک سمجھا جائے گا، لیکن حقیقت اس وقت آشکار ہوگی جب انسان مرنے کے بعد اُٹھائے جائیں گے، کیونکہ اس وقت اعمال کی تعداد اور ظاہر کو نہیں، بلکہ نیت کو دیکھا اور پرکھا جائے گا، اگر نیت اچھی اور خالص تھی، ارادے میں اخلاص تھا، دل روحانی بیماریوں، جیسے تکبر، بغض، حسد وغیرہ سے پاک وصاف تھا تو ایسا شخص کامیاب ہوگا، اور اولیائے کرامؒ کے ساتھ اس کا حشر ہوگا، لیکن اگر نیت میں کھوٹ نکلا اور نیک کام کرنے کا مقصدشہرت وناموری تھاتو اس صورت میں ایسے شخص کا حشر نیکوکار اور پاکیزہ اطوار حضرات کے ساتھ نہیں ہوگا، جیساکہ ابن ماجہ کی ایک حدیث میں ہے:’’انسانوں کا حشر اُن کی نیتوں کے مطابق ہوگا۔ ‘‘

حُسنِ نیت کا ثواب

اچھی نیت رکھنے کی بڑی فضلیت یہ ہے کہ نیت کرتے ہی ایک نیکی مل جاتی ہے، چاہے عمل کرنے کی نوبت آئے یا نہ آئے، اور اگر نیت کے ساتھ وہ عمل صالح بھی کر لیا تو پھر کم سے کم دس نیکیاں تو ملیں گی، لیکن زیادہ کی کوئی حد نہیں، چنانچہ بخاری شریف وغیرہ کی ایک حدیث ہے: ’’اللہ تعالیٰ نے نیکیاں اور برائیاں لکھ دی ہیں، پھر ان کو بیان کردیا ہے، چنانچہ جو شخص نیکی کرنے کا ارادہ کرے، مگر اس کے مطابق عمل نہیں کرے تو بھی اللہ تعالیٰ اس کے لیے ایک پوری نیکی لکھ دیتا ہے، اور اگر وہ نیکی کا ارادہ کرکے عمل بھی کرلے تو اس کے لیے اللہ تعالیٰ دس نیکیوں سے لے کر سات سو گنا، یا کئی گُنا نیکیوں کا ثواب لکھ دیتا ہے۔ ‘‘

مؤمن کی نیت عمل سے بہتر

بسااوقات انسان کی چاہت ہوتی ہے کہ وہ اچھے اعمال کرے، بھلائی اور نیکی کے کام کرے، لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے وہ نہیں کرپاتا، مثلاً حاجت مند وتنگدست افراد کی مالی مدد کرنے کی نیت ہے، مگر مال نہ ہونے کی وجہ سے اپنی نیت اور ارادے پر عمل نہیں کرتا تو بھی نیت کا اس کو ثواب ملے گا۔ اسی طرح کسی نیک کام کرنے کی سچی نیت کی تو اسے شروع کرنے سے قبل ہی نیت کا ثواب مل جاتا ہے۔

نیز عمل صالح میں ریاکاری کا اندیشہ ہے کہ عمل کرتے وقت نام ونمود کی خواہش ہو، لیکن نیت چونکہ ایک مخفی چیز ہے، اس پر دوسرے انسان مطلع نہیں ہوسکتے، لہٰذا اس میں دکھاوے اور ریا کا احتمال بھی نہیں ہوگا۔ تو معلوم ہوا کہ انسان کے عمل سے اس کی نیت افضل ہے، اسی سے متعلق حضور اکرم ﷺکا ارشاد ہے: ’’مؤمن کی نیت اس کے عمل سے بہتر ہے۔ ‘‘( المعجم الکبير للطبرانی)

نیت کی وجہ سے گھر بیٹھے غزوۂ تبوک کا ثواب

اصول یہی ہے کہ جب کوئی شخص اچھا عمل کرے گا تو پھر اس عمل کا اجر وثواب اس کو ملے گا، لیکن اللہ تعالیٰ محض اپنے فضل کی بناپر اخلاص اور صدقِ نیت کی بدولت عمل کے بغیر بھی اس عمل کا ثواب عنایت فرماتے ہیں، چنانچہ صحیح بخاری وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم ﷺجب غزوۂ تبوک سے واپس لوٹ رہے تھے، اور مدینہ منورہ پہنچنے والے تھے تو آپ ﷺ نے صحابہؓ سے فرمایا:’’بلاشبہ مدینہ میں کچھ لوگ ایسےہیں کہ جو بھی تم نے سفر کیا اور جس وادی کو بھی تم نے عبور کیا، وہ تمہارے ساتھ تھے۔ ‘‘

صحابۂ کرامؓ کو تعجب ہوا، چنانچہ انہوں نے آپ ﷺسے دریافت فرمایا: یا رسول اللہﷺ! اے اللہ کے رسولﷺ! کیا وہ مدینہ میں موجود ہیں؟ نبی کریم ﷺنے جواب دیا: ’’وہ مدینہ میں ہیں، ان کو عذر نے روک لیا تھا۔ ‘‘

اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی کی نیت خالص ہو، اور وہ اعمالِ صالحہ کرنے کی چاہت رکھتا ہو، لیکن عذر اور مجبوری کی وجہ سے وہ نہ کرسکے تو اللہ تعالیٰ اسے ثواب سے محروم نہیں فرماتا، چنانچہ مدینہ میں موجود مخلص افراد نے عملی طور پر غزوۂ تبوک میں شرکت نہیں کی، لیکن پھر بھی انہیں پورا ثواب ملا، اور وہ اس غزوے کے ہر عمل میں شریک سمجھے گئے۔

حُسنِ نیت کی بناپر شہادت کا ثواب

اللہ تعالیٰ کی راہ میں شہید ہونا، اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اپنی جان کی قربانی دینا، راہِ خدا میں اپنی گردن کٹوانا، اور جامِ شہادت نوش کرنا کوئی معمولی بات نہیں، اس کے لیے مضبوط ایمان، تکالیف برداشت کرنے کا حوصلہ، اور بڑی ہمت وجرأت کی ضرورت ہوتی ہے، لہٰذا جب انسان اللہ تعالیٰ کی خاطر اپنی عزیز ترین چیز یعنی اپنی جان کی قربانی دیتا ہے تو اسے کتنا اجر وثواب ملتا ہوگا؟ اور کتنے اعلیٰ وارفع درجات حاصل ہوتے ہوں گے؟

اس کا تصور کرنا بھی مشکل ہے، لیکن ’’حسنِ نیت‘‘ کی وجہ سے اپنی گردن کٹوائے بغیر بھی یہ رتبہ مل سکتا ہے، اور انسان قتل ہوئے بغیر بھی شہادت کے بلند مقام پر فائز ہوسکتا ہے، چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ حضور اکرمﷺ حضرت عبد اللہ ثابت ؓ کی عیادت کو آئے تو آپ ﷺ نے دیکھا کہ وہ بےہوش تھے اور ان کا وقت موعود آچکا تھا، تو آپ علیہ السلام نے ’’إنّا للہ۔ ۔ ‘‘ پڑھا، یہ سن کر وہاں موجود عورتیں رونے لگیں، اس دوران ان صحابیؓ کی بیٹی نے کہا: ’’اللہ کی قسم! مجھے تو یہ اُمید تھی کہ آپ شہید ہوں گے، کیونکہ آپ سامانِ جہاد تیار کر چکے تھے۔‘‘ اس پر نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے اس کی نیت کے بقدر اس کا اجر لکھ دیا ہے۔ ‘‘( سنن ابوداؤد)

نیت کی وجہ سے تہجّد کا ثواب

نیک عمل کیے بغیر محض نیت کی وجہ سے اس عمل کا ثواب ملنے سے متعلق درجِ ذیل حدیث بھی ملاحظہ ہو:ترجمہ: ’’جو شخص بستر پر آئے اور اس کی نیت یہ ہو کہ اُٹھ کر نماز پڑھوں گا، پھر اس کی آنکھ لگ جائے، یہاں تک کہ صبح ہوجائے تو اس کے لیے اس عمل (نماز تہجد) کا ثواب لکھ دیا جائے گا جس کی اس نے نیت کی تھی، اور اس کی نیند رب تعالیٰ کی جانب سے اس پر صدقہ ہوگی۔ ‘‘ اللہ تعالیٰ کی رحمت پر قربان جائیے کہ کس طرح سچے ارادے اور حُسنِ نیت پر اجر عنایت فرماتا ہے، اور عمل کیے بغیر اس کا ثواب عطا کرتا ہے۔ (سنن النسائی)

صدقہ کیے بغیر صدقہ کرنے کا ثواب

طبعی وفطری طور پر ہر شخص کو مال ودولت جمع کرنے کی چاہت ہوتی ہے، تاکہ اس کے ذریعے دنیا میں اپنے آپ اور اہل وعیال کے لیے آسائشیں حاصل کرسکے، یہی وجہ ہے کہ ظاہری نفع اور دنیاوی فائدے کے بغیر مال کو صرف کرنا عموماً انسانوں پر شاق گزرتا ہے، اور اپنی محنت ومشقت سے کمایا ہوا مال کسی دوسرے کو دینا نفس پر گراں گزرتا ہے، تو جو شخص اپنے نفس اور خواہش کی تابعداری کو چھوڑ کر اپنا مال صدقہ کرے گا، غرباء اور محتاجوں کی مالی مدد کرے گا، اور اپنی دولت سے دوسرے کو نفع دے گا تو ایسا شخص اللہ تعالیٰ کا کتنا محبوب ہوگا، اور اس کو کتنا بڑا اجر ملے گا؟

لیکن اللہ تعالیٰ کے کرم واحسان کو دیکھیے کہ محض نیت کی وجہ سے راہِ خدا میں مال لٹانے والے کو جتنا ثواب عنایت فرماتا ہے، چنانچہ ایک طویل حدیث میں آپﷺ کا ارشاد ہے: ترجمہ: ’’ایک شخص وہ ہے جسے اللہ تعالیٰ نے مال اور علم دونوں سے نوازا تو وہ اس میں اپنے رب سے ڈرتا ہے، اور صلہ رحمی کرتا ہے، اور اس میں حقوق اللہ کا علم رکھتا ہے، پس یہ سب سے افضل منزل ومرتبہ والا ہے۔ اور ایک وہ شخص ہے جسے اللہ تعالیٰ نے علم دیا، لیکن مال سے نہیں نوازا، پس وہ سچی نیت والا ہے، تمنا کرتے ہوئے کہتا ہے: کاش میرے پاس مال ہوتا تو میں بھی فلاں کی طرح اچھے عمل کرتا تو اس کو نیت کے مطابق ثواب ملے گا، اور ان دونوں کا اجر برابر ہے۔‘‘ ( سنن ترمذی)

غیرمستحق کو دینے کے باوجود صدقہ کی قبولیت

اگر انسان کی نیت خالص اور اچھی ہو، پھر نیک عمل کرتے وقت خطا صادر ہوجائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے حسنِ نیت کی بنا پر اس خطا اور غلطی سے درگزر فرماکر اس عمل کو شرفِ قبولیت سے نوازتے ہیں، چنانچہ متعدد احادیث سے یہ بات ثابت ہے کہ اگر کوئی شخص صدقہ وخیرات کرنے کی نیت کرے، لیکن غلطی سے ضرورت مند شخص کو دینے کے بجائے، غیر مستحق فرد کو دے دے تو بھی اللہ تعالیٰ قبول فرماتے ہیں، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ گزشتہ اُمتوں میں سے ایک آدمی صدقہ کرنے کے لیے رات کو نکلا، اور لاعلمی میں زانیہ کو صدقہ دے دیا، صبح لوگوں کی باتوں سے معلوم ہوا کہ رات ایک زانیہ کو صدقہ دیا تھا، چنانچہ وہ اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء بیان کرتا ہے اور دوسری رات بھی صدقہ نکالتا ہے، لیکن ناواقفی میں مالدار کو صدقہ دے دیتا ہے، اور تیسری رات غلطی سے چور کو صدقہ دے دیتا ہے۔

غرض تینوں بار مستحق شخص کو صدقہ نہیں ملتا، لیکن چونکہ نیت خالص تھی، اس لیے اللہ تعالیٰ تینوں بار صدقہ قبول فرماتے ہیں، اور رات کو خواب میں اس سے کہا جاتا ہے: ترجمہ: ’’تمہارا صدقہ قبول کیا جاچکا ہے۔ بہرحال زانیہ تو ہوسکتا ہے کہ وہ صدقہ کی وجہ سے آئندہ زنا سے باز رہے، اور شاید کہ مالدار عبرت حاصل کرے، اور اللہ تعالیٰ نے جو اسے عطا کیا ہے، اس میں سے خرچ کرے، اور ہوسکتا ہے کہ چور چوری کرنے سے باز آجائے۔‘‘ (صحيح مسلم)

اسی طرح صحیح بخاری وغیرہ کی ایک حدیث میں ہے کہ حضرت معن ؓ کے والد نے صدقہ کے کچھ دینار نکال کر ایک آدمی کو دیے، تاکہ مستحق شخص دیکھ کر اسے وہ دینار دیے جائیں، لیکن ان کا بیٹا حضرت معنؓ مسجد گیا اور لاعلمی میں وہ دینار لے لیے، جب ان کے والد کو یہ بات معلوم ہوئی تو انہوں نے کہا کہ میں نے تمہیں دینے کا ارادہ نہیں کیا تھا، چنانچہ یہ معاملہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا، اس پر آپ ﷺنے فرمایا: ترجمہ: ’’اے یزید! تمہیں وہ (اجر) ملے گا جس کی تم نے نیت کی، اور اے معن! جو تم نے وصول کیا ہے، وہ تمہارا ہے۔ ‘‘اس حدیث میں یہ مذکور ہے کہ ایک مالدار صحابیؓ کا صدقہ کسی مستحق شخص کو ملنے کے بجائے، اس کے بیٹے کو ملا، لیکن اس کے باوجود اللہ تعالیٰ نے حسنِ نیت کی وجہ سے اجر وثواب سے نوازا۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حسنِ نیت کی وجہ سے انسان کبھی بھی اجر وثواب سے محروم نہیں ہوتا، اگرچہ کسی وجہ سے عمل صالح کرنے کی نوبت نہ آئے، لیکن نیت کی وجہ سے اس کا ثواب مل جاتا ہے، لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ اپنی نیت اچھی رکھے، اور ہر عبادت کرتے وقت اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کا ارادہ کرے، بلکہ جائز ومباح کام سرانجام دیتے وقت بھی حسنِ نیت رکھے، تاکہ پوری زندگی عبادت بن جائے۔

اقراء سے مزید