نیویارک (تجزیہ : عظیم ایم میاں) امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے قومی خطاب میں تو ایران کو تباہ کرنے کے بارے میں اپنے دعوے دھراتے ہوئے ایران کو پتھر کے زمانے (Stone Age) میں واپس پہنچانے کی دھمکی دی ہے جبکہ ایران کی جانب سے بھی ردعمل میں مذاکرات نہ کرنے اور امریکا اور اسرائیل کے حملوں کا مقابلہ کرنے کا موقف دھرایا گیا۔ امریکی میڈیا کی رپورٹوں سے بھی واضح ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ کے خطاب میں ایران کو تباہ کرنے کے پرانے دعوؤں کے علاوہ کوئی نئی بات نہیں تھی نہ ہی انہوں نے اس جنگ کی سمت، خاتمے اور مقاصد کے بارے میں امریکی قوم کی کوئی وضاحت یا رہنمائی کی البتہ آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا بھر میں انرجی کے بحران اور مضر معاشی اور دیگر اثرات کو نظرانداز کرتے ہوئے یہ اعلان کردیا کہ وہ ابنائے ہرمز کو جہاز رانی کے لئے کھولنے کی بجائے دیگر ترجیحات پر توجہ دیں گے گویا آبنائے ہرمز امریکام اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث بند ہوئی لیکن آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے لئے بحال کرنے کا کام دنیا کے وہ ممالک کریں گے جواس جنگ میں شریک نہیں۔