• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بڑے اشتہاری ملزم کو بھی جعلی مقابلے میں قتل کی اجازت نہیں، سندھ ہائیکورٹ

کراچی (محمد منصف) سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بنچ نے کہا ہے کہ بڑے اشتہاری ملزم کو بھی جعلی مقابلے میں قتل کی اجازت نہیں دی جاسکتی، جعلی پولیس مقابلوں سے عدالتی نظام کا مقصد اور عوام کا اعتماد ختم ہوجائیگا،ٹیکسی ڈرائیور پولیس مقابلہ مشکوک قرار دیتے ہوئے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کو مشکوک پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس محمد سلیم جیسر نے ٹیکسی ڈرائیور شاہ میر کا پولیس مقابلہ مشکوک قرار دیتے ہوئے ریمارکس میں کہا ہے کہ کوئی کتنا بڑا اشتہاری ملزم ہی کیوں نہ ہو کسی پولیس افسر یا اہلکار کو جعلی مقابلے میں قتل کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ، پولیس کو جعلی اور خود ساختہ مقابلوں کی کھلی چھوٹ دے دی گئی تو عدالتی نظام کا مقصد اور عوام کا عدلیہ سے اعتماد مکمل طور پر ختم ہوجائے گا، پولیس کا محکمہ قانون نافذ کرنے والا محکمہ ہے اس کی اولین ذمہ داری ہے کہ نظم و ضبط اور صبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے مفرور ملزمان کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرے۔ اگر پولیس مقابلہ 17 جنوری 2026 کو ہوا تو اس سے قبل 15جنوری 2026 کو بازیابی کے لئے درخواست کیسے دائر ہوئی؟ آئینی بنچ کے سربراہ جسٹس جیسر نے مزید کہا ہے کہ عدالت کے سامنے جو شواہد آئے ہیں اس کے نتیجے میں ہمیں ایسا لگتا ہے کہ مذکورہ پولیس مقابلہ مشکوک ہے۔ آئین پاکستان کا آرٹیکل 14 انسانی وقار اور جانی تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔ فاضل عدالت نے ٹارچر اینڈ کسٹوڈیل ڈیتھ ایکٹ کے تحت ایف آئی اے کو مشکوک پولیس مقابلے کی تحقیقات کا حکم دے دیا، عدالت عالیہ نے آئی جی سندھ کو ہدایت کی ہے کہ مقدمہ تحقیقات کے لئے ایف آئی اے کو بھیجا جائے اور ایف آئی اے قانون کے مطابق 30 روز میں تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ متعلقہ عدالت میں جمع کرائی جائے۔ درخواست گزار مسماۃ رانی خاتون نے 15 جنوری 2026 کو چیف سیکرٹری سندھ ، سیکرٹری محکمہ داخلہ اور آئی جی سندھ ، ایس ایس پی ملیر اور ایس ایچ او سچل سمیت دیگر کو فریق بناتے ہوئے آئینی درخواست دائر کی جس میں اپنے وکیل کے توسط سے موقف اختیار کیا کہ اس کے بھائی ٹیکسی ڈرائیور شاہ میر کو 14 اور 15 جنوری کی درمیانی شب 10 سے 12 موٹر سائیکل سوار اہلکاروں اور کئی موبائل گاڑیوں نے چھاپہ مار کر حراست میں لیا۔

اہم خبریں سے مزید