• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

توانائی بچت، بلوچستان کے بعد KP میں بھی مارکیٹیں 8، شادی ہالز، ریسٹورنٹس 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ

پشاور، کوئٹہ، گلگت (نمائندہ جنگ، نیوز ایجنسیاں) بلوچستان کے بعد خیبر پختونخوااور گلگت میں توانائی کی بچت کیلئے آج سے مارکیٹوں، شادی ہالز اور ریسٹورنٹس کے اوقات کار میں تبدیلی کی ہدایات جاری کردی گئیں، مارکیٹیں رات 8 بجے تک بند ہونگی، شادی ہالز اور ہوٹل رات 10بجے بند کردیے جائینگے، دواخانے، تندور پٹرول پمپس پابندی سے مستثنیٰ ہونگے، جس کا اطلاق آج سے ہوگا، خیبرپختونخوا میں انرجی ایمرجنسی کا اعلان، فلڈ لائٹس، سائن بورڈز اور غیر ضروری اے سی پر پابندی، وزیراعلیٰ بلوچستان نے پنک اور گرین بس کو ایک ماہ کیلئےفری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے ایران، امریکہ جنگ اور مجموعی علاقائی صورتحال کے تناظر میں پیٹرولیم مصنوعات اور توانائی بحران پر قابو پانے، ایندھن کی فراہمی پر بڑھتے ہوئے دباؤ کو کم کرنے اور پیٹرول و بجلی کے مؤثر اور محتاط استعمال کو یقینی بنانے کے لئے انرجی ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے اہم اقدامات کی منظوری دے دی ہے جسکے تحت صوبہ کے ڈویژنل ہیڈ کوارٹرز میں بازار ، مارکیٹس رات 9 بجے جبکہ اضلاع میں رات 8 بجے بند ہوں گے ، شادی ہالز ، ہوٹل،کیفے اور ریسٹورنٹس رات 10 بجے بند ہوں گے ، تندور، پیٹرول پمپس اور پبلک ٹرانسپورٹ کو مخصوص حد تک استثنیٰ حاصل ہوگا، غیرضروری لائٹنگ پر پابندی ہوگی، عمارتوں، پلازوں اور ایونٹ مقامات پر ڈیکوریٹو اور فلڈ لائٹس کے استعمال پر پابندی لگائی گئی ہے، مارکیٹس میں صرف ضروری لائٹنگ کی اجازت ہوگی، بل بورڈز، ایل ای ڈی اسکرینز اور سائن بورڈز بند کرنےکی ہدایت کی گئی ہے،کاروباری اوقات کے بعد اے سی، لفٹس اور ایسکلیٹرز کے استعمال پر پابندی ہوگی، غیرضروری کمرشل سرگرمیوں کے لیے جنریٹر کے استعمال پر بھی پابندی عائد کی گئی ہے، سرکاری دفاتر میں افراد کی غیرموجودگی میں تمام برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے۔اعلامیہ کے مطابق کمرشل اداروں میں نجی دفاتر، کنسلٹنسیز، ایجنسیاں، بینک، تعلیمی اکیڈمیاں، ٹیوشن سینٹرز، دکانیں، شو رومز، جیولری شاپس، بیکریز، جم، فٹنس سینٹرز، گیسٹ ہاؤسز، کیٹرنگ سروسز اور اسی نوعیت کے دیگر کاروبار پر پابندیوں کا اطلاق ہوگا البتہ جن خدمات کو بنیادی نوعیت کے باعث ان پابندیوں سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے ان میں زراعت اور تعمیراتی سرگرمیاں میڈیکل سٹورز/فارمیسیز (24 گھنٹے، مخصوص شرائط کے ساتھ) ہسپتال، لیبارٹریز اور ایمرجنسی ہیلتھ سروسز،تنور (روٹی/نان کی تیاری کے لیے)پیٹرول پمپس شامل ہیں۔

اہم خبریں سے مزید