فیصل آباد (شہباز احمد) پیٹرول میں 10 فیصد ایتھنول شامل کرکے خام تیل کی درآمدات کو کم کرکے ناصرف قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکتا بلکہ کاربن کے اخراج میں بھی کمی ممکن ہے۔ ان خیالات کا اظہار ماہرین نے ہنزہ شوگر ملز کی جانب سے ایتھنول کو پائیدار فیول کے طور پر متعارف کروانے کے لئے منعقد کئے گئے انڈسٹری اور اکیڈیمیا کے ڈائیلاگ میں کیا ہے۔ چیئرمین پنجاب ہائر ایجوکیشن کمیشن پروفیسر ڈاکٹر رانا اقرار احمد خاں، وائس چانسلر، بابا گرو نانک یونیورسٹی ننکانہ صاحب پروفیسر ڈاکٹر شاہد عمران ، وائس چانسلر، جی سی ویمن یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر کنول امین، وائس چانسلر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد پروفیسر ڈاکٹر ذوالفقار علی، جوائنٹ ایگزیکٹو ڈائریکٹر اوگرا انجینئر راحیل پتافی اور ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آپریشنز تحفظ ماحولیات پنجاب ڈاکٹر ظفر اقبال، پرنسپل یونیورسٹی آف ایجوکیشن فیصل آباد کیمپس پروفیسر ڈاکٹر رانا شاہد اقبال، ہیڈ آف کیمسٹری ڈیپارٹمنٹ بابا گرو نانک یونیورسٹی ڈاکٹر سمیرا نعیم، حمزہ شوگر ملز گروپ ہیڈ بریگیڈئیر ریٹائرڈ شہباز رسول اور جنرل منیجر حمزہ شوگر ملز ایتھنول ڈسٹلری یونٹ و دیگر نے گنے سے چینی بنانے کے بعد بچنے والی باقیات سے بائیو ایتھانول کی تیاری، ایل این جی کے متبادل کے طور پر بائیو گیس سے آر ایل این جی کی پیداوار، ایتھنول کی برآمدی صلاحیت اور مستقبل میں قابل تجدید ایندھن کے طور پر فروغ کا جائزہ لیا۔