• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کو جنگی جرائم قرار دیدیا

تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک) صدر ٹرمپ نے ایسٹر سنڈے کے موقع پر بھی اپنی مذہبی منافرت پر مبنی بیان بازی جاری رکھی جبکہ اس دوران ایران کیخلاف سخت الفاظ استعمال کئے‘بجلی گھروں‘پلوں پر بمباری کی دھمکی دی اور گندی گالیوں پر اتر آئے ‘ٹرمپ کے اس رویے پر امریکا سمیت دنیا بھر میں غم وغصے کی لہر دوڑگئی جبکہ عالمی مبصرین بھی اس پر حیرانی کا شکار ہیں‘ ٹرمپ کے ریمارکس پر سی این این کا پینل دنگ رہ گیا ‘ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے بجلی گھروں اور پلوں پر حملوں کو جنگی جرائم قرار دیدیاجبکہ نیویارک ٹائمز‘ اسکائی نیوزکے صحافیوں اورعالمی امورکے ماہرین نے بھی اس معاملے پر اپنی سخت رائے کااظہار کرتے ہوئے ٹرمپ کے بیانات کو متضاد قرار دیا اور کہاکہ ایرانی قیادت کیلئے موت عظمت کا نشان بن چکی ہے ۔ امریکی سینیٹرمرفی نے کہاکہ اگر میں کابینہ میں ہوتا تو آج ہی 25ویں ترمیم کے تحت ٹرمپ کو نااہل کرواتا‘ سینیٹر برنی سینڈرزاور اور چک شومر نے ٹرمپ کے بیان کو پاگل پن قراردیاجبکہ سینیٹر ٹم کین ‘ ٹیلرگرین ‘جے آچن کلوتھ اورروکھنہ سمیت کئی امریکی ارکان پارلیمنٹ نے ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کے بیان کو شرمناک اور بچکانہ قراردیاہے ‘ ٹرمپ کے بیانات نے مسیحیوں کو حیران کردیا ہے‘ایرانی پارلیمنٹ کےاسپیکر محمد باقر قالیباف نے صدر ٹرمپ کو متنبہ کیا ہے کہ نیتن یاہو کے کہنے پر خطے کو آگ نہ لگائیں ‘انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کے "لاپرواہ اقدامات" کا مطلب یہ ہوگا کہ "ہمارا پورا خطہ جل اٹھے گا"۔سوشل میڈیا پر ایک بیان میں محمد باقر قالیباف کاکہناتھاکہ آپ کے لاپرواہ اقدامات امریکامیں ہر خاندان کو ایک جیتی جاگتی جہنم کی طرف دھکیل رہے ہیں اور ہمارا پورا خطہ اس لیے جلنے والا ہے کیونکہ آپ نیتن یاہو کے احکامات پر عمل کرنے پر اصرار کر رہے ہیں۔ اس مسئلے کا واحد حقیقی حل ایرانی عوام کے حقوق کا احترام کرنا اور اس خطرناک کھیل کو ختم کرنا ہے۔امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے ٹرمپ کے بیان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ دماغی طور پر غیر متوازن معلوم ہوتا ہے ‘ ایران جنگ کو ایک ماہ سے زائد کا عرصہ ہوگیا ہے اور ہمارا صدر اس طرح کے بیانات دے رہا ہے ، کانگریس کو ان کیخلاف کارروائی کرنی ہوگی ۔سینیٹر چک شومرنےٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایسٹر کے موقع پر امریکی صدر بے قابو پاگل کی طرح چیخ رہا ہے‘سینیٹر کرس مرفی نے کہا کہ کابینہ میں ہوتا توایسٹر کا دن ٹرمپ کو نااہل کروانے کیلئے مشاورت میں گزارتا، سینیٹر ٹم کین نے کہا کہ ایران کو پتھر کے زمانے کی دھمکیاںاورگالیاں شرمناک اور بچکانہ ہے،سابقہ خاتون رکن کانگریس اور ٹرمپ کی سب سے بڑی حامی رہنے والی ٹیلر گرین نے کہا کہ ٹرمپ کی پوجا بند کریں تاہم قدامت پسند مبصر لورا لومر نے ٹرمپ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ بالکل ٹھیک کررہے ہیں ۔ تفصیلات کےمطابق ٹرمپ نے دھمکیوں اور گالم گلوچ کے بعد طنزیہ انداز میں ’’سب تعریفیں اللہ کیلئے ‘‘ بھی کہا جبکہ ایک دن قبل انہوں نے اپنے ایک پیغام کا اختتام ’’خدا کی شان‘‘ کے الفاظ پر کیا۔اگرچہ ریپبلکن صدر اپنی کھری باتوں کے لیے مشہور ہیں، لیکن ان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر کی گئی اس پوسٹ نے خاص طور پر ایک مسیحی تہوار کے موقع پر لوگوں کو حیران کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک سینیٹ کے اقلیتی لیڈر چک شومر نے کہا، "امریکا کو ایسٹر مبارک ہو۔ جب آپ چرچ جا رہے ہیں اور دوستوں و خاندان کے ساتھ جشن منا رہے ہیں، تو امریکا کا صدر سوشل میڈیا پر ایک بے قابو پاگل شخص کی طرح چیخ و پکار کر رہا ہے۔"انہوں نے مزید کہاوہ ممکنہ جنگی جرائم کی دھمکیاں دے رہا ہے اور اتحادیوں کو خود سے دور کر رہا ہے۔ وہ ایسا ہی ہے، لیکن ہم ایسے نہیں ہیں۔ ہمارا ملک اس سے کہیں بہتر کا حقدار ہے۔"ڈیموکریٹک سینیٹر کرس مرفی، جو ایران میں جنگ کے مخالف ہیں، نے کہا کہ اگر میں ٹرمپ کی کابینہ میں ہوتا، تو میں ایسٹر کا دن 25ویں ترمیم کے بارے میں آئینی وکلاء کو فون کرنے میں گزارتا،" ان کا اشارہ اس شق کی طرف تھا جو صدر کے فرائض انجام دینے کے نااہل ہونے کی صورت میں اقتدار کی منتقلی فراہم کرتی ہے۔ورجینیا سے تعلق رکھنے والے سینیٹر ٹم کین، جو کہ ڈیموکریٹ ہیں، نے کہاکہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب 79 سالہ ٹرمپ نے ایران پر امریکا اور اسرائیل کے حملے کے بعد سے ایسی سخت زبان استعمال کی ہو۔کین نے این بی سی کے پروگرام "میٹ دی پریس" میں کہا، "انہیں پتھر کے زمانے میں واپس بھیجنے کے لیے بمباری کرنا، انہیں گالیاں دینا، یہ سب شرمناک اور بچکانہ ہے، اور یہ وہ لوگ ہیں جو خود کو بڑا اور سخت دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جبکہ اس جنگ میں انتظامیہ کی جانب سے جو چیز ہمیں حقیقت میں نظر آ رہی ہے، وہ کسی منصوبے اور واضح منطق کی کمی ہے ۔ ’’صدر کی پوجا بند کریں‘‘تنقید صرف ٹرمپ کے ڈیموکریٹک مخالفین تک محدود نہیں تھی۔

اہم خبریں سے مزید