کراچی (اسد ابن حسن) بہت جلد نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی میں انقلابی اقدامات کا نفاذ شروع ہو جائے گا جس سے سائلین کو بہت جلد انصاف ملے گا، یہ بات نئے تعینات شدہ ڈائریکٹر جنرل خرم علی سیّد نے اپنے نئے عہدے کا چارج لینے کے بعد پہلی مرتبہ ’’جنگ‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتائی۔ انہوں نے بتایا کہ مختلف ممالک جن میں امریکہ اور چین شامل ہیں، ان سے سائبر کرائم کے حوالے سے ایم او یوز پر دستخط کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ اگلے ہفتے وہ امریکہ ایک کانفرنس میں شرکت کرنے کے لیے جا رہے ہیں جہاں بعد میں وہ فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے اعلیٰ افسران سے بھی ملاقاتیں کریں گے تاکہ ان سے بھی ایم او یو کے حوالے سے بات چیت ہوسکے کیونکہ پاکستان میں بھی سفارتی سطح پر یہ کوششیں جاری ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے پاس فنڈز کی کمی نہیں ہے اور ان فنڈز سے ایک نیا سافٹ ویئر اور ہارڈ ویئر کی خریداری کا پروسیس جاری ہے جس سے ادارے کی کارکردگی میں بے انتہا بہتری آئے گی۔ انہوں نے انکشاف کیا ہے کہ ان کی کوشش تھی کہ ادارے کی اپنی عمارت ہو لہٰذا ان کی کوششیں کامیاب ہو گئیں اور حکومت نے ادارے کے لیے تین منزلہ عمارت مختص کر دی ہے جہاں رینوویشن کا کام شروع کر دیا گیا ہے اور کچھ افسران وہاں شفٹ بھی ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ ادارے کے لاہور کے دفتر کی بلڈنگ کے لیے بھی کام آخری مراحل میں ہے۔ خرم علی سیّد کا مزید کہنا تھا کہ اے پی ٹی رولز میں تاخیر کی وجہ یہ تھی کہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے مطابق سائبر جرائم کی تحقیقات پہلے ایف آئی اے سے منسلک تھی اور اس پر بھی فیڈرل سروس رولز کا اطلاق ہوتا تھا مگر اب این سی سی آئی اے کو منسلک تصور کرتے ہوئے ادارے کے اپنے اے پی ٹی رولز تقریباً مکمل ہو چکے ہیں اور جلد ہی ان کا نفاذ کر دیا جائے گا۔ ایک اور سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے فیز ون کے تمام افسران کو ریگولر سے کنٹریکٹ بیسز پر منتقل کر دیا گیا ہے اور وہ افسران جن کے خلاف کوئی انکوائری جاری نہیں ہے، ان کے کیسز فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو بھیج دیئے جائیں گے اور اگر وہ وہاں سے کامیاب ہوتے ہیں تو ان کو ادارے میں تعینات کر دیا جائے گا جن افسران کے خلاف مقدمات اور انکوائریاں چل رہی ہیں، ان کے کنٹریکٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد ان کی ادارے میں کوئی جگہ نہیں ہوگی۔ اگر اے پی ٹی رولز کے نفاذ میں تاخیر ہوتی ہے تو فیز ٹو کے تمام افسران کے کنٹریکٹ کی معیاد ختم ہو جائے گی اور ان کو فارغ کردیا جائے گا۔ فیز تھری کے افسران کے کنٹریکٹ کی میعاد ختم ہونے کے بعد ان کو نوکریوں سے فارغ کر دیا گیا ہے جبکہ نچلے درجے کے اہلکاروں کے کنٹریکٹس کے حوالے سے عدالتی کارروائی زیر التوا ہے۔