• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ایران کی سائنسی تحقیق کا اعلیٰ معیار، یونیورسٹیوں پر اسرائیلی حملوں کی بڑی وجہ

کراچی ( جنگ نیوز،سہیل محمود مہر)اسرائیلی میڈیا، خصوصاً Haaretzہیرٹز سے منسلک تجزیاتی مباحث میں اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ ایران سائنسی اشاعتوں کی مجموعی تعداد کے لحاظ سے اسرائیل کو پیچھے چھوڑ چکا ہے۔ عالمی تحقیقی ڈیٹا بیسز جیسے اسکوپس اور ویب آف سائنس کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں ایران کی سائنسی پیداوار میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے، جو 1990 کی دہائی کے اواخر میں چند ہزار سالانہ مضامین سے بڑھ کر اب پچاس ہزار سالانہ سے تجاوز کر چکی ہے،ایران اب سائنسی تحقیق کے لحاظ سے 20 بالائی ممالک میں شامل ہے اور ایران کے تحقیقی اداروںبالخصوص یونیورسٹیوں پر اسرائیل کے تابڑتوڑ حملوں کے پیچھے اسرائیل کی یہ تشویش بھی کارفرما ہے کیونکہ اسرائیلی تجزیہ کار اس پیش رفت کو محض تعلیمی کامیابی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ اسے ایک وسیع تر اسٹریٹجک تناظر میں پرکھتے ہیں۔ انکے مطابق سائنسی تحقیق میں اضافہ براہ راست ٹیکنالوجیکل صلاحیتوں میں بہتری کا سبب بنتا ہے، جو دفاعی صنعت، میزائل ٹیکنالوجی اور سائبر صلاحیتوں جیسے حساس شعبوں میں استعمال ہو سکتی ہے۔ سی لیے اسرائیلی حلقوں میں ایران کی سائنسی ترقی کو ایک ممکنہ سکیورٹی چیلنج کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

اہم خبریں سے مزید