اسلام آباد/تہران/واشنگٹن (اے ایف پی /نیوز ڈیسک/رانا غلام قادر،عظیم ایم میاں )وزیراعظم شہبازشریف اور چیف آف آرمی اسٹاف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈمارشل عاصم منیر کی سفارتی کوششیں کامیاب ‘امریکا اور ایران میں دوہفتوں کی جنگ بندی ‘آبنائے ہرمز کھل گئی ‘ دنیا پرسکون ‘اسرائیل بھی سیزفائر پرراضی ‘ تیل کی عالمی قیمتیں گر کر93ڈالرفی بیرل پر آگئیں جبکہ ڈالر کی قدربھی گھٹ گئی ۔تفصیلات کے مطابق امریکی ڈیڈ لائن ختم ہونے سے تقریباًڈیڑھ گھنٹہ قبل صدر ٹرمپ نے اعلان کیاکہ وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی درخواست پر وہ ایران کے خلاف طے شدہ حملے کو دو ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے پر آمادہ ہیں بشرطیکہ ایران آبنائے ہرمز کو فوری مکمل اور محفوظ طریقے سے کھول دے۔ان کے مطابق یہ ایک دو طرفہ جنگ بندی ہوگی۔امریکا اپنے تمام فوجی اہداف حاصل کر چکا ہے اور ایران کے ساتھ طویل المدتی امن معاہدے پرکافی حد تک پیش رفت ہو چکی ہے‘ان کا کہناتھاکہ ایران کی جانب سے10نکاتی تجویز موصول ہوئی ہے جو مذاکرات کے لیے قابل عمل بنیاد فراہم کرتی ہے۔ امریکی صدر کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان زیادہ تر اختلافی نکات پر اتفاق ہو چکا ہے اور دو ہفتوں کی مہلت معاہدے کو حتمی شکل دینے میں مدد دے گی‘انہوں نے کہاکہ بطور صدر اور مشرق وسطیٰ کے ممالک کی نمائندگی کرتے ہوئے، اس دیرینہ مسئلے کے حل کے قریب پہنچنا ان کے لیے باعث اعزاز ہے ۔وائٹ ہاؤس کے ایک اعلیٰ عہدیدار نے واضح کیا ہے کہ جنگ بندی آبنائے ہرمزکو کھولنے سے مشروط ہوگی جبکہ اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے ایک اعلیٰ اسرائیلی ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل جنگ بندی معاہدے کی مکمل پاسداری کرنے کے لیے پرعزم ہے‘سیز فائر کا اطلاق لبنان پر بھی ہوگا۔ دوسری جانب ایران نے بھی پاکستان کی جانب سے پیش کردہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کی تجویز کو باضابطہ طور پر قبول کر لیا ہے۔ذرائع کے مطابق اس جنگ بندی کی منظوری ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے دی ہے‘اس فیصلے کے بعد اب ایران دو ہفتوں کیلئے اپنی تمام عسکری کارروائیاں روک دے گا اورآبنائے ہرمز کو بھی بحری ٹریفک کے لیے کھول دیا جائے گا۔ وزیراعظم شہبازشریف نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان کی ثالثی کے نتیجے میں واشنگٹن اور تہران اپنے تمام اتحادیوں سمیت فوری جنگ بندی پر راضی ہو گئے ہیں۔شہباز شریف نے ایران اور امریکا سمیت تمام متعلقہ فریقین کے وفود کوجمعہ کومذاکرات کیلئے اسلام آباد آنے کی باضابطہ دعوت دے دی ہے۔ایران کی سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل نے باضابطہ طور پر تصدیق کی ہے کہ اس نے پاکستان کےذریعے امریکا کو 10نکاتی امن تجویز ارسال کر دی ہےجس میں معاشی پابندیوں کا خاتمہ ‘ نقصانات کے ہرجانے کی ادائیگی ‘یورینیم افزودگی کی اجازت ‘ منجمداثاثوں کی واپسی ‘ہرمز سے ایرانی افواج کے تعاون سے راہداری‘خطے سے امریکی افواج کے انخلاءسمیت دیگرنکات شامل ہیں ‘امریکا کے ساتھ باقاعدہ مذاکرات کے پہلے راؤنڈکا باقاعدہ آغاز جمعہ 10 اپریل کو اسلام آبادمیں ہوگا۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ اگر ایران کے خلاف حملے بند کر دیے جائیں تو ایران بھی اپنی تمام عسکری کارروائیاں فوری طور پر روک دے گا۔ جنگ بندی کی مدت کے دوران عالمی تجارتی جہاز اور آئل ٹینکرز ایرانی حدود سے بحفاظت گزر سکیں گے ۔قبل ازیں شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ڈیڈ لائن میں دوہفتے توسیع کی درخواست کی تھی ۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں شہباز شریف نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے پُرامن حل کے لیے سفارتی کوششیں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہیں اور جلد ٹھوس نتائج سامنے آنے کا امکان ہے۔وزیراعظم نے اپنے پیغام میں امریکی صدر سے درخواست کی کہ سفارتکاری کو موقع دینے کے لیے ڈیڈ لائن میں دو ہفتوں کی توسیع کی جائے‘میری ایرانی بھائیوں سے بھی درخواست ہے کہ جذبہ خیرسگالی کے تحت آبنائے ہرمز کو دو ہفتوں کے لیے کھول دیں۔ شہباز شریف نےجنگ کے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ دو ہفتوں کے لیے مکمل جنگ بندی کریں تاکہ سفارتی عمل کو کامیاب بنایا جا سکے اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔شہباز شریف کی درخواست کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں گر گئیںجبکہ وزیراعظم کی جنگ بندی سے متعلق تجویز پر مبنی ٹوئٹ کو ابتدائی 40منٹ میں 10لاکھ لوگوں نے دیکھا۔ بعدازاں وائٹ ہاؤس نے تصدیق کی کہ صدر ٹرمپ کو پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف کی اس درخواست سے آگاہ کر دیا گیا ہے جس میں ایران پر بڑے پیمانے کے حملوں کی ڈیڈ لائن میں دو ہفتے کی توسیع کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو جاری بیان میں بتایاکہ تجویزکا جواب جلد سامنے آ جائے گاجبکہ برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر، شہبازشریف کی ڈیڈلائن میں توسیع کی درخواست پر غورکررہے ہیں جبکہ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق ایک معتبر علاقائی ذریعے نے دعویٰ کیا ہے کہ کشیدگی کے خاتمے کے حوالے سے بہت جلد دونوں جانب سے اچھی خبر متوقع ہے۔ ذرائع کے مطابق، اس وقت جاری حساس مذاکرات کی براہِ راست نگرانی اور رہنمائی پاکستان کے آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسزفیلڈ مارشل عاصم منیر کر رہے ہیں جو بات چیت کو آگے بڑھا رہے ہیں ۔صدر ٹرمپ نے منگل کو فاکس نیوز کو مختصر انٹریو میں تصدیق کی تھی کہ ایران جنگ کے خاتمے کے حوالے سے اس وقت پرجوش مذاکرات جاری ہیں تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا۔صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کی جنگ بندی کی تجویز پر مکمل بریفنگ لینے والے ہیں ۔ ٹرمپ نے شہبازشریف کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ میں صرف اتنا کہہ سکتا ہوں کہ میں شہباز شریف کوبہت اچھی طرح جانتا ہوں‘ وہ ہر جگہ ایک انتہائی محترم انسان کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ ادھرایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے بھی تصدیق کی تھی کہ ایران، پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی دو ہفتوں کی جنگ بندی اور آبنائے ہرمز کھولنے کی تجویز کا مثبت جائزہ لے رہا ہےتاہم تہران امن اور جنگ دونوں کیلئے تیار ہے ۔ عہدیدار کے مطابق تہران وزیراعظم شہباز شریف کی اس سفارتی کوشش کو قدر کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے جس کا مقصد خطے کو ایک بڑی تباہی سے بچانا ہے۔قبل ازیں ایران کے مختلف شہروں میں پلوں ‘ہائی ویزاور ریلوے ٹریکس پر امریکی واسرائیلی بمباری جاری ‘ جزیرہ خارگ میں آئل ٹرمینل اور تہران میں یہودی عبادت گاہ بھی نشانہ ‘بچوں سمیت 20افراد شہید ‘ متعددزخمی ‘تہران کی سعودی شہرجبیل میں پیٹروکیمیکل کمپلیکس پر جوابی کارروائی ‘پلانٹ میں آگ بھڑک اٹھی ‘قطر میں میزائل کا ملبہ گرنے سے بچے سمیت 4 افراد زخمی‘ اسرائیل پر میزائل اور راکٹوں کی بوچھاڑ ‘ 3 افراد زخمی ‘ دوحامیں دھماکے ‘عراق میں راکٹ حملے کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بعد مشتعل مظاہرین کا کویتی قونصل خانے پر دھاوا‘گھیراؤکرلیاجبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو ہولناک الٹی میٹم دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر تہران نے امریکی مطالبات تسلیم نہ کیے توپوری ایک تہذیب مٹ جائے گی جو کبھی دوبارہ واپس نہیں آئے گی‘ میں نہیں چاہتا کہ ایسا ہو لیکن غالباً ایسا ہی ہو گاجبکہ نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تہران کو دھمکاتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی افواج کے پاس ایسے ہتھیار اور ذرائع موجود ہیں جو اب تک ایران کے خلاف استعمال نہیں کیے گئے‘ امریکا ایران میں اپنے عسکری اہداف حاصل کر چکا ہے‘جنگ کے اختتام کی نوعیت ایران پر منحصر ہے ۔ دوسری جانب پاسداران انقلاب نے واضح کیا ہے کہ اگرواشنگٹن نے سرخ لکیریں عبورکیں اور شہری تنصیبات پر حملہ کیا تو وہ خطے سے باہر جواب دیں گے اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کو کئی سالوں تک تیل اور گیس سے محروم کر دیں گےجبکہ ایرانی نائب صدرمحمد رضا عارف نے ٹرمپ کی حالیہ دھمکیوں کے ردعمل میں کہا ہے کہ ایران جنگ میں تمام تر امکانات اورہرقسم کی صورتحال کے لیے مکمل طور پر تیار ہے‘پاکستان میں ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کا کہناہے کہ جنگ روکنے کے لیے پاکستان کی مثبت اور تعمیری کوششیں ایک فیصلہ کن اور نازک مرحلے کے قریب پہنچ گئی ہیں‘قطر کا کہنا ہے کہ وہ اسلام آباد کی جنگ بندی کوششوں کی حمایت کرتاہے ۔ادھر روس اور چین نے سلامتی کونسل میں آبنائے ہرمز کھلوانے کے حوالے سے قرارداد ویٹو کردی‘ پاکستان اورکولمبیا نے رائے شماری میں حصہ نہیں لیا ۔ تفصیلات کے مطابق فاکس نیوز کو انٹریو میں صدرٹرمپ کاکہناتھاکہ اگر ڈیڈ لائن پوری نہ کی گئی تو ایسا حملہ ہوگاجوانہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا ہوگا جبکہ اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں امریکی صدرکا کہنا تھاکہ مذاکرات جاری ہیں لیکن بظاہر خوشگوار نتائج سامنے نہیں آ رہے۔ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کی نئی قیادت ممکنہ طور پر معاہدے پر راضی ہو جائے ’شاید کچھ شاندار ہو جائے، کون جانتا ہے؟۔امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے پاس ایسے خفیہ ہتھیار اور ذرائع موجود ہیں جو اب تک تہران کے خلاف استعمال نہیں کیے گئے تاہم انہوں نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ بات چیت کے ذریعے ان ہتھیاروں کی نوبت آنے سے بچا جا سکے گا۔ہنگری کے دورے کے دوران صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جے ڈی وینس نے کہاکہ واشنگٹن نے اپنے فوجی اہداف بڑی حد تک حاصل کر لیے ہیں‘امریکی ڈیڈ لائن سے پہلےاب اور تب کے درمیان ابھی بہت سے مذاکرات ہونے باقی ہیں۔نائب صدر نے تہران کو براہِ راست مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو یہ جان لینا چاہیے کہ ہمارے پاس ایسے ہتھیار موجود ہیں جو ہم نے اب تک استعمال نہ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔امریکی صدر ان کے استعمال کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور اگر تہران نے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا تو صدریقیناً انہیں استعمال کرنے کا فیصلہ کریں گے۔دریں اثناء وائٹ ہاؤس نے ایران پر ایٹمی حملے کے تاثر کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ صرف صدرہی جانتے ہیں کہ ایران کے خلاف کیا اقدام ہوگا؟ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے اے ایف پی کو ایک بیان میں بتایاکہ ایرانی حکومت کے پاس اس موقع سے فائدہ اٹھانے اور امریکا کے ساتھ معاہدہ کرنے کے لیے بدھ کی صبح 5 بجے تک کا وقت ہے۔پریس سیکرٹری نے مزید کہاکہ معاملات کس نہج پر ہیں اور صدر کیا کرنے والے ہیں، اس بارے میں صرف وہی (صدر) جانتے ہیں۔ وائٹ ہاؤس نےان دعوؤں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا گیا تھا کہ نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے متعلق بیان میں ایٹمی حملے کا کوئی اشارہ موجود تھا ۔ اس دعوے کے جواب میں وائٹ ہاؤس نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سخت لہجہ اختیار کرتے ہوئے لکھاکہ نائب صدر نے یہاں جو کچھ بھی کہا ہے اس میں دور دور تک ایسا کوئی اشارہ موجود نہیں ہے، تم لوگ مکمل طور پر احمق ہو۔ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے ٹرمپ کی دھمکی پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک مہذب قوم کی ثقافت، منطق اور اس کے صالح مقصد پر ایمان کی طاقت بلاشبہ وحشیانہ طاقت کی منطق پر غالب ہو گی۔ اسماعیل بقائی کے مطابق ایک قوم جو راست بازی پر پورا یقین رکھتی ہے وہ اپنے حقوق اور جائز مفادات کے تحفظ کے لیے اپنی تمام تر صلاحیتوں اور صلاحیتوں کو بروئے کار لائے گی۔ ادھر اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ نے اشتعال انگیز بیان بازی کی شدید مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ عام شہریوں اور سویلین انفرااسٹرکچر کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا جنگی جرم ہے ۔ اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک نے ایک بیان میں زور دیتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی جرائم کے ذمہ دار کسی بھی شخص کا احتساب ہونا ضروری ہے۔اقوامِ متحدہ کے حقوق کے سربراہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایسی دھمکیاں جو شہریوں میں خوف و ہراس اور دہشت پھیلائیں، وہ ناقابلِ قبول ہیں اور انہیں فوری طور پر بند ہونا چاہیےجبکہ عیسائیوں کے روحانی پیشواپوپ لیو نے ایران میں سویلین اہداف کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچانے کی دھمکیوں کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔ صحافیوں سے گفتگو میں پوپ نے کہاکہ ایران کے تمام عوام کے خلاف یہ دھمکی سامنے آئی ہے اور یہ واقعی ناقابلِ قبول ہے۔ادھراسرائیل کے ہنگامی خدمات کے اداروں نے بتایا ہے کہ منگل کوایران سے آنے والے میزائلوں اور لبنان سے ہونے والی راکٹ باری کے نتیجے میں کم از کم تین افرادزخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زمیر نے کہاہے کہ ایران کے خلاف امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی اسٹریٹجک موڑپر پہنچ چکی ہے‘ایرانی حکومت کو پہنچائے جانے والے نقصان میں مزید شدت لائی جائے گی جبکہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیل نے ایران کے اندر ان ریلوے لائنوں اور پلوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں پاسدارانِ انقلاب استعمال کر رہے تھے۔ایک ویڈیو پیغام میں نیتن یاہو نے کہاکہ ہم ایرانی حکومت کو پہلے سے کہیں زیادہ طاقت کے ساتھ کچل رہے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے ایک بیان میں تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس نے ایران کے مختلف علاقوں بشمول تہران، کرج، تبریز، کاشان اور قم میں پلوں کے آٹھ حصوں کو نشانہ بنایا ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ رات حکومت کے کئی کمانڈرز کو ہلاک اور کلیدی انفراسٹرکچر کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق قم شہر کے باہر ایک بڑے پل اور وسطی ایران میں ایک ریلوے پل پر حملہ کیا گیا جس میں دو افرادشہیدہوئے۔ شمالی ایران میں تبریز کو تہران سے ملانے والی اہم ترین ہائی وے بھی حملے کے بعد بند کر دی گئی ہے۔