تہران/واشنگٹن(اے ایف پی /نیوزڈیسک ) خلیج میں امریکی اتحادی ممالک کویت ‘بحرین ‘سعودی عرب اورمتحدہ عرب امارات پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملے جاری ‘تیل تنصیبات‘ بجلی گھر اور پانی صاف کرنے کے پلانٹس نشانہ‘عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید گرگئیں‘امریکی جنگی کمان کا تہران کے خلاف لڑائی میں فتح کا دعویٰ‘ایران نے ہرمزمیں محفوظ راستے متعین کردیئے‘امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی معاہدے کے لئے ہونے والے مذاکرات میں شرکت کیلئے ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف آج اسلام آباد پہنچیں گے جبکہ وائٹ ہاؤس نے بتایا ہے کہ صدرٹرمپ اپنی مذاکراتی ٹیم، جس کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کر رہے ہیں، پاکستان روانہ کر رہے ہیں‘وفد میں خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈکشنر بھی شامل ہیں ‘مذاکرات کا پہلا دور ہفتہ کے روزاسلام آباد میں منعقد ہوگا ‘ بند کمروں میں حساس بات چیت ہوگی ۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولین لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ آبنائے ہرمز کی کسی بھی قسم کی بندش مکمل طور پر ناقابلِ قبول ہے‘ٹرمپ چاہتے ہیں آبی گزرگاہ کھلی رہے ‘جنگ بندی میں لبنان شامل نہیں ‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بحران پر بات چیت بند کمرے میں ہوگی اور یہ کہ امریکہ کو صرف بامقصد نکات پر مبنی قبول ہے۔سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ کا کہناتھاکہ یہ وہ نکات ہیں جن کی بنیاد پر ہم نے جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ یہ معقول چیز ہے اور اسے آسانی سے نمٹایاجا سکتا ہے ۔اس کے علاوہ اے بی سی نیوزکو انٹرویو میں امریکی صدرکا کہنا تھاکہ انہیں توقع ہے کہ مذاکرات جمعہ کو شروع ہوں گے اور بہت تیزی سے آگے بڑھیں گے۔ٹرمپ نے اپنی آن لائن پوسٹ میں ان نامعلوم افراد کے خلاف وفاقی تحقیقات کی دھمکی بھی دی جن پر انہوں نے ثبوت فراہم کیے بغیرمختلف خط و کتابت گردش کرنے کا الزام لگایا۔ ٹرمپ کے مطابق وہ خط و کتابت جنگ بندی کے معاہدے کی بنیاد نہیں تھی۔ سوشل میڈیا پر ایک اور بیان میں ٹرمپ نے کہاکہ امریکا، ایران کے ساتھ مل کر کام کرے گا اور دونوں ممالک محصولات (ٹیرف) اور پابندیوں میں نرمی پر بات چیت کر رہے ہیں۔ٹرمپ کامزیدکہناتھاکہ ایران کو تجویز کردہ امریکی منصوبے کے 15 نکات میں سے بہت سے نکات پر اتفاق ہو گیا ہے تاہم انہوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔