• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

جنگ بندی کی خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو متاثر کررہی ہیں، شہباز شریف، وزیراعظم کا ایرانی صدر اور فیلڈ مارشل کا عراقچی سے رابطہ

اسلام آباد (رانا غلام قادر،ایجنسیاں) وزیراعظم محمدشہباز شریف کہا ہے کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں امن عمل کی روح کو متاثر کر رہی ہیں، فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں، جنگ کے شعلے اللہ نےچاہا تو ہمیشہ کیلئے بجھ جائینگے، وزیراعظم کہا چین، سعودی عرب، ترکیہ، مصر، قطر، یورپی یونین نے پاکستان کی سفارتکاری میں بھرپور تعاون کیا، کابینہ اجلاس میں وزیراعظم کی آمد پر اراکین نے کھڑے ہو کر اور تالیاں بجا کر خیرمقدم کیا، کابینہ اراکین نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کیلئے بھی ڈیسک بجا کر مبارکباد دی ، اجلاس میں حکومت کا جمعے کے روز یومِ تشکر منانے کا فیصلہ کیا اورقوم سے مذاکرات کی کامیابی کیلئے خصوصی دعائیں کرنے کی اپیل کی، وزیراعظم شہباز شریف اور ایران کے صدر مسعود پزشکیان کے درمیان ٹیلی فونک رابطہ ہوا جس میں دونوں رہنماؤں نے امریکا ایران جنگ بندی پر اطمینان کا اظہار کیا جبکہ وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور جنگ کے خاتمے کیلئے مؤثر کوششوں پر پاکستان کی تعریف کی، شہباز شریف سے ترکیہ کے صدر طیب اردگان نے بھی رابطہ کرکےپاکستان کے امن کیلئے کامیاب ثالثی پر دلی مبارکباد ی، روس، برطانیہ، فرانس، آسٹریلیا، ملائیشیا، جرمنی، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور کیتھولک مسیحیوں کے روحانی پیشوا پاپ لیو بھی نے ایران امریکا جنگ بندی کاخیرمقدم کیا۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جنگ کے شعلے دو ہفتے کیلئے بُجھ گئے ہیں، اللہ نے چاہا تو ہمیشہ کیلئے بُجھ جائیں گے۔ پاکستان نے ذمہ داری اور وقار کے ساتھ کردارادا کیا، سیاسی اور ملٹری لیڈرشپ یکسوہیں اور رہے گی۔وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے یہ بات بدھ کے روز وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے دوران بھائی کو بھائی سے لڑانے کی کوشش کی جا رہی تھی لیکن اندرونی اور بیرونی سازشیں ناکام ہوگئی ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ جو عزت و تکریم پاکستان کو ملی ہے یہ صدیوں میں اللہ تعالی کسی کو عطا کرتا ہے یہ ملکی تاریخ میں ایک روشن لمحہ ہے ،ٹوکیو سے لے کر لندن تک اور کاسابلانکا سے لے کے کوالالمپور تک لوگوں اور میڈیا میں پاکستان کے تذکرے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ایرانی اور امریکی لیڈر شپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ جنہوں نے میری درخواست کو پذیرائی بخشی اور امن کی خاطر پاکستان کی سنجیدگی اور خلوص کو انہوں نے قبول کیا،ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جنہوں نے دو ہفتے کیلئے جنگ بندی پر اتفاق کیا، سعودی عرب، قطر، اومان، کویت، ترکیہ، انڈونیشیا، مصر، آذربائجان، متحدہ عرب امارات اور ہمارے عظیم دوست چین سب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے امن کاوشوں میں پاکستان کا ساتھ دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ جنگ وقتی طور پر ٹل گئی ہے اور جنگ بندی پہلا قدم ہے مگر ہماری منزل پائیداد اور دیر پا امن اور ترقی اور خوشحالی ہے، میری دعوت پر امریکی اور ایرانی وفود پرسوں پاکستان پہنچ رہے ہیں ان مذاکرات کو اللہ تعالیٰ کامیاب کرے اور ترقی اور خوشحالی کے دروازے کھل جائیں۔ دریں اثناء سوشل میڈیا اپنے بیان میں وزیراعظم شہباز شریف نے بتایا کہ انہوں نے ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان سے بدھ کی دوپہر ٹیلیفونک گفتگو کی ۔45 منٹ سے زائد جاری رہنے والی اس گفتگو کے دوران وزیراعظم نے ایرانی قیادت کی دانشمندی اور دور اندیشی کو سراہا، جنہوں نے جنگ بندی پر آمادگی ظاہر کی اور وزیراعظم کی جانب سے ایران اور امریکہ کے درمیان رواں ہفتے اسلام آباد میں مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش قبول کی۔ صدر مسعود پزشکیان نے وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا اور ایران اور امریکہ کے درمیان عارضی جنگ بندی کے قیام میں پاکستانی قیادت کی کوششوں کو سراہا ۔ علاوہ ازیں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور جنگ کے خاتمے کیلئے مسلسل اور مؤثر کوششوں پر پاکستان کی تعریف کی۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ خطے میں امن و سلامتی کے فروغ اور جنگ بندی میں پاکستان کے کردار کو سراہتے ہیں۔ عباس عراقچی نے فیلڈ مارشل سے اسرائیل کی ایران اور لبنان میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر بھی گفتگو کی۔ علاوہ ازیں بدھ کو سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں وزیراعظم نے کہا کہ ’’اسلام آباد مذاکرات ‘‘کی جانب پیشرفت کرتے ہوئے میں برادر ممالک عوامی جمہوریہ چین، مملکتِ سعودی عرب، جمہوریہ ترکیہ، عرب جمہوریہ مصر اور ریاستِ قطر کا تہہ دل سے اور مخلصانہ شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انہوں نے جنگ بندی کے حصول اور پُرامن سفارتی کوششوں کو ایک جامع اور حتمی حل کی جانب بڑھنے کا موقع دینے کیلئے بے مثال اور بھرپور تعاون فراہم کیا۔

اہم خبریں سے مزید