پروفیسر خالد اقبال جیلانی
انسانی تاریخ کا سفر جاری ہے، لمحۂ موجود میں عالمِ اسلام عالم ِ کفر کی بے رحم اور سفاکارانہ جارحیت سے دوچار ہے۔ مسلم ممالک کی کاہلی و غفلت اور احکام ِ الٰہی سے اعراض کی بناء پر امّتِ مسلمہ کو تاریخ کی بد ترین ہزیمت اور پسائی کا سامنا ہے۔
مسلم ممالک کی آزادیاں چھینی جا رہی ہیں۔ مسلمانوں کے بنیادی انسانی حقوق تک سلب کئے جارہے ہیں، طاغوتی طاقتیں عالم ِ اسلام کے قدرتی وسائل پر قبضہ کر رہی ہیں، اسلامی ممالک کی زمینیں چھین کر ان کی سرحدوں کی نئی حد بندی کر کے نقشہ تبدیل کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔
مسلمانوں کی تہذیب کو ملیا میٹ کیا جا رہا ہے۔ امّت کی دینی روایات کا چہرہ مسخ کیا جا رہا ہے۔ مسلم ممالک میں ابلیسی طاقتوں یا مغرب کے ایجنٹ ہر اول دستے کے طور پر تعلیم و ثقافت اور سیاست و حکومت کے میدانوں میں سر گرم عمل ہیں۔ ان سب سے بڑھ کر قیامت کبریٰ یہ ہے کہ مسلم ممالک میں معصوم و نہتے مسلمانوں کے خون کے دریا بہائے جا رہے ہیں۔ اسلامی ممالک کے آسمانوں سے آگ اور زہریلے بارود کی برسات بر سائی جا رہی ہے۔
اس قیامت کے عالم میں امّتِ مسلمہ کی سب سے شدید ترین ضرورت اور وقت کی پکارو تقاضا یہ ہے کہ مسلم ممالک اپنے حالات کا تفصیلی و تنقیدی جائزہ لے کر اصلاح ِ احوال کی سنجیدہ و مخلص کوشش اور اپنی بقاء و سلامتی کی فکر و تدابیر کریں۔ اسلامی ممالک کی سرحدوں کا دفاع اور عالمِ اسلام کو عسکری و جنگی اعتبار سے ناقابلِ تسخیر بنانا اس وقت پوری امّت ، اسلامی ممالک اور تمام مسلمانوں پر اجتماعی طور پر فرض ہے۔
قرآن و حدیث میں اس سلسلے میں امّتِ مسلمہ اور اسلامی ممالک کو انفرادی اور اجتماعی طور پر متحدہ ریاست ہائے اسلامیہ کا مشترکہ دفاع مضبوط سے مضبوط تر اور ناقابل تسخیر بنانے کے واضح احکامات موجود ہیں۔ ذیل کی سطور میں ان احکامات کا مختصر جائزہ پیش کیا جاتا ہے۔
ملّت اسلامیہ کو اپنا دفاع مضبوط اور ناقابلِ تسخیر کرنے کے حوالے سے سورۃ النساء میں حکم الٰہی ہے ’’اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنے دفاع کے لئے ہتھیارلے لو، پھر یا تو جماعت جماعت ہو کر نکلا کرو یا سب ایک ساتھ کوچ کیا کرو ‘‘۔ اس آیت مبارکہ میں پوری امّت (عالم ِ اسلام) کو اپنے دفاع کے لئے اجتماعی یا مشترکہ تیاری اور دشمن کے مقابلے کے لئے ایک ساتھ جہاد کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
اسی طرح عسکری تربیت کا مقصد بھی امّتِ مسلمہ اور اسلامی ممالک کے اجتماعی دفاع کو مضبوط سے مضبوط تر کر ناہی ہے۔ چناںچہ سورۂ انفال میں امّتِ مسلمہ کو مخاطب کر تے ہوئے حکم دیا ’’ اور جہاں تک ہو سکے پُر زور (مشترکہ و اجتماعی) فوجی قوت اور گھوڑے (عسکری دفاعی اثاثوں سامانِ حرب) کی تیاری رکھو اور مقابلے کیلئے (ہمہ وقت) تیار اور مستعد رہو، تاکہ اس سے اللہ کے دشمنوں اور تمہارے دشمنوں اور دیگر لوگوں پر جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ انہیں جانتا ہے، ہیبت بیٹھی رہے گی‘‘۔
یہاں بھی مسلمانوں کو اجتماعی طور پر عسکری و دفاعی ٹریننگ کا مقصد بھی دشمن کو مرعوب اور دہشت زدہ رکھنا ہے جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ مسلمان محفوظ و مامون رہیں گے۔ اسی طرح دیگر بہت سی قرآنی آیات میں امّتِ مسلمہ کو اجتماعی طور پر اسلامی سرحدوں او ر مشترکہ دفاع کا حکم دیا گیا ہے۔ ان تمام آیات ِ قرآنی کی تفصیل کی اس مختصر مضمون میں گنجائش نہیں۔
قرآن کریم کی طرح رسول اللہ ﷺ کی متعدد احادیثِ مبارکہ میں بھی امّتِ مسلمہ کو اجتماعی اور مشترکہ طور پر کفار اور دشمنانان ِ اسلام سے اپنی حفاظت اور جنگ کے موقع پر مشترکہ طور پر ریاستِ اسلامی اور امّت کے دفاع کی تر غیب دی گئی ہے۔
روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ریاست مدینہ کی سرحدوں اور ریاست ِ مدینہ کے اندر بسنے والے مسلمان اور غیر مسلم شہریوں کی حفاظت کا خاص انتظام فرماتے۔ ریاستِ مدینہ کی سرحدوں کی نگرانی اور گشت کے لئے سپاہی مقرر کئے ہوئے تھے۔
اسلامی سرحدوں پر ایک دن یا رات کی نگرانی کو آپ ﷺ نے ’’دنیا و مافیہا‘‘ سے بہتر قرار دیا تو کہیں اسے ایک مہینے کے روزوں اور قیام سے بہترفرمایا، آپ ﷺ نے فرمایا ’’اللہ تعالیٰ کے راستے میں ایک دن تیار ہو کر (سرحد پر نگرانی کے لئے ) بیٹھنا دوسرے مقامات (مساجد وغیرہ)میں ایک ہزار دن بیٹھنے سے افضل ہے‘‘۔
حضرت ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں (جہاد کے وقت )نگرانی کرنے کے لئے ایک لمحہ کھڑا ہونا حجر اسود کے پاس رات بھر قیام کرنے سے بہتر ہے‘‘ کہیں سرحدوں کی حفاظت اور نگرانی میں جان کا نذرانہ دینے والے کو قیامت تک اس کے اجر کا مژدہ سنایا، اور اس نگرانی کرنے والے سپاہی کو قیامت کے دن کی گھبراہٹ سے محفوظ قرار دیا گیا ہے، جو لوگ اسلامی ریاستوں کی سرحدوں کی حفاظت کرتے ہیں، انہیں سب سے پہلے جنّت میں داخلے کی خوش خبری سنائی گئی، آپ ﷺنے فرمایا ’’جو آنکھ اللہ کی راہ میں (سرحدوں پر) نگرانی کرتے ہوئے رات بھر جاگتی رہی، اس آنکھ کو جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی‘‘ بعض اوقات یہ خدمت اور ذمہ داری رسول اللہ ﷺ خود بھی صحابہ کرامؓ کے ساتھ انجام دیتے۔
جب رسول اللہ ﷺکہیں پڑاؤ ڈالتے تو نگران مقرر فرماتے، خندقیں کھودنے والوں کے لئے بارگاہِ الٰہی میں دعا فرمائی۔ (بحوالہ بخاری ومسلم، نسائی ، ترمذی ، ابو دائود ، مسند احمد، ابن حبّان) آ پ ﷺ نے امّت میں یہ شعور پیدا فرمایاکہ امّت کا ہر ہر فرد خود کو پوری امّت اور عالم ِ اسلام کا محافظ اور ذمہ دار سمجھے کیونکہ ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ ...
اس گفتگو سے ہمارا مقصد یہ ہے کہ موجودہ عالمی اور خصوصاً عالم اسلام کے حالات میں جب کہ مسلم ممالک کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا ہے، یہ اقدام عملاً بہت اور اشد ضروری ہو گیا ہے کہ قرآن و سنّت کی مذکورہ بالا تعلیمات وہدایات کی روشنی میں عالم اسلام اور تمام مسلم ممالک مغربی و یورپی اقوام کے فوجی وجنگی دفاعی اتحاد کی طرز پر امّت ِ مسلمہ کا دفاعی و جنگی اتحاد تشکیل دیں۔
اس وقت عالم اسلام کو ایک مشترکہ فوجی تنظیم اور مرکزی فوجی قیادت کی ضرورت ہے۔ اگر مسلم ممالک کے سربراہان ایک ایسی مشترکہ فوج اور دفاعی نظام تشکیل دینے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ دنیا کی سب سے بڑی مضبوط، منظم اور ناقابل ِ تسخیر فوج ثابت ہو سکتی ہے۔
عالم اسلام کی یہ مشترکہ فوج نہ صرف غیر مسلم اقوام کی مسلم دنیا پر جارحیت کے مقابلے کے لئے، بلکہ اسلامی ممالک کے اندرونی خلفشار اور دہشت گردی جیسے مسائل کے خاتمے کے لئے بھی کار آمد ثابت ہوگی۔ اس کے ساتھ ساتھ تمام اسلامی ممالک کو اپنی مشترکہ دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی کو فروغ دینا ہوگا تاکہ امّتِ مسلمہ اور اسلامی ممالک کے دفاع کے لئے درکار ہتھیاروں کے بیرونی دنیا اور مغرب انحصار نہ کرنا پڑے۔
اسلامی ممالک کا یہ مشترکہ فوجی دفاعی اتحاد عملاً ممکن ہے ،لیکن اس کےلیے اسلامی ممالک کو اپنے سیاسی اور فروعی اختلافات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے امّت کے اجتماعی مفادات کے لئے ایک مشترکہ پلیٹ فارم قائم کرنا ہوگا۔ تمام اسلامی ممالک اپنی اپنی فوجی، جنگی اور دفاعی صلاحیتوں کا جائزہ لے کر ایک مرکزی فوجی قیادت کے تحت ہر ملک کے فوجی و دفاعی وسائل اور اثاثوں کو منظم کریں۔
اس کے ساتھ یہ بھی بہت ضروری ہے کہ تمام اسلامی ممالک کے قدرتی وسائل کو امّتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادکے لئے استعمال کیا جائے، تاکہ مسلم امّہ دنیاکی سب سے بڑی طاقت بن سکے، نیز اسلامی ممالک کی معاشی قوت کو بھی یکجا کیا جائے ،تا کہ ہم کسی غیر مسلم طاقت کے سامنے کشکول لے کرنہ کھڑے ہوں۔
اس وقت مسلم ممالک کا دفاعی بلاک ایک دینی و ملّی ضرورت ہے۔ موجودہ عالمی صورت حال میں یہ ایک ناگزیر ضرورت ہے۔ اگر تمام اسلامی ممالک اپنی عسکری اور معاشی قوت کو یکجا کر لیں تو دنیا کی کوئی طاقت اسلامی ممالک کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکے گی۔
ضروری ہے کہ یہ متحدہ و مشترکہ اسلامی بلاک اسی طرز پر کام کرے جس طرز اور اتحاد کی بنیاد پر غیر اسلامی ممالک کے فوجی و دفاعی اتحاد تشکیل دئیے گئے ہیں اور جس طرز پر وہ کام کر رہے ہیں، کسی بھی اسلامی ملک پر حملہ تمام اسلامی ممالک پرحملہ تصور کیا جائے۔
یہ اتحاد اسلام اور مسلم دشمن قوتوں کے لئے ایک ایسی دفاعی دیوار ثابت ہوگا، جسے گرانا نا ممکن ہوگا۔ دوسرا ضروری اصول یہ ہو کہ تمام اسلامی ممالک اپنی فوجی صلاحیتوں بشمول دفاعی اثاثوں اور افرادی قوت کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کریں تو یہ ایک ایسی ناقابل تسخیر قوت بن جائے گی، جو کہ ’’قرآنی اصطلاح میں ’’بُنیان مرصوص‘‘ کی حیثیت اور اہمیت کی حامل ہوگی جو کسی بھی غیر اسلامی کفر پر مبنی طاقت کا غرور اور سازشوں کو خاک میں ملا دے گی۔
مختصر یہ کہ یہ سب کچھ عملی اتحاد سے ممکن ہے، اگر عالم اسلام اور امّت ِمسلمہ آج متحد اور ایک نہ ہوئے تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی اور ہماری داستان بھی نہ ہوگی داستانوں میں ‘‘ انسانیت کی بقا اور اسلام کی سر بلندی اور غلبہ اسی میں مضمر ہے کہ … ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لئے۔