تفہیم المسائل
سوال: ایک ابہام دور فرما دیجیے، کلمہ شریف : ’’لَا إِلٰہَ إِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہِ‘‘ میں رَسُولُ اللہِ کے لام کے اوپر پیش لکھا اور پڑھا جاتا ہے جبکہ اکثر لوگ بالخصوص نعت خواں حضرات زبر پڑھتے ہیں، کس طرح پڑھنا درست ہے یا پھر دونوں ہی طرح پڑھنا درست ہے، رہنمائی فرما دیجیے؟ (محمد راویل)
جواب: کلمۂ طیبہ :لٓا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ہے، یہی تلفظ صحیح ہے۔ اس موقع پر رسول کے لام پر پیش کی جگہ زبر یا زیر پڑھنا نحوی قواعد کے مطابق درست نہیں ہے، اس جملے میں لفظ اسم رسالت مآب ’’ مُحَمَّد ‘‘ ﷺمبتدا ہے، ’’رَسُولُ اللہ ‘‘ اُس کی خبر ہے، نحوی قواعد کے مطابق مبتدا اور خبر دونوں پرپیش آتا ہے، اس لیے’’مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ‘‘ میں ’’رسول ‘‘کے لام پر پیش ہے۔
اگر ’’ یَا‘‘ حرفِ ندا کے ساتھ’’یَا رَسُولَ اللہ ﷺ ‘‘ پکارا جائے تو مُنادیٰ مضاف ہونے کی بناپر ’’ رسول ‘‘کے لام پر زبر آتا ہے ، وہاں لام پر پیش یا زیر لکھنا یا پڑھنا قطعاً درست نہیں ہے ۔ ’’یَا‘‘حرفِ ندا،جو پکارنے کے لیے استعمال ہوتا ہے، نحوی ترکیب میں یہ اکثر اَدْعُوْ(میں پکارتا ہوں) کے قائم مقام ہوتا ہے، جس کے بعد آنے والا لفظ منادیٰ ہوتا ہے۔ منادیٰ کا اعراب حالتِ نداء کے مطابق بدلتا ہے، مثلاً :منادیٰ مفرد ہونے کی صورت میں کلمے کے آخری حرف پر ضمہ (۔ُ) آتا ہے۔
اسی طرح اذان میں :اَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّداً رَسُوْلُ اللہِ لام پر پیش کا سبب اس سے قبل لفظ ’’أَنَّ ‘‘ہے ،یہ ایسا حرف ہے کہ جو اپنے اسم کو نصب (زبر) اور خبر کو رفع(پیش) دیتا ہے، تو نامِ نامی اسمِ گرامی ’’مُحَمَّد ‘‘کے اسم ہونے کی وجہ سے منصوب ہے، جبکہ رسول خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ اسی لیے اقامت میں أَشْہَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رّسُولُ اللہ ہوگیا۔ اور کلمہ طیبہ میں أَنَّ یا اُس جیسا نصب دینے والا کوئی حرف نہیں ہے ،تو اصل کے اعتبار سے جملہ کے دونوں اسم یعنی مبتدا اور خبر مرفوع( پیش والے) ہوں گے:لٓا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ۔
منادیٰ معناً منصوب ہوتاہے،کیونکہ معنیٰ کے لحاظ سے مفعول بہٖ ہے، لیکن لفظی اعراب کے لحاظ سے تین حالتوں میں منصوب (زبر) ہوگا :(1)جب منادیٰ مفرد مضاف ہو،تو کلمے کے آخری حرف پر فتح(۔َ)آتا ہے ، جیسے: یَا عَبْدَاللہ ،(2)جب شبہ مضاف ہو، تو منصوب (۔ً) ہوتا ہے، جیسے: یَا طَالِعاً جَبلاً ،(3)جب نکرہ غیرمعین ہو، تو بھی نصب (۔ً)آتا ہے، جیسے: نابینا کسی آہٹ کی آواز سن کر کہے: یَا رَجُلاً خُذْ بِیَدِیْ۔
اسی طرح قرآن کریم کی آیت: ’’ وَمَا أَرْسَلْنَاکَ إِلَّا رَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ‘‘(الانبیاء :107)میں لفظ ’’رَحمۃً ‘‘ مُستثنیٰ ہونے کی بناپر منصوب ہے۔ اور ’’ یَارَحْمَۃً لِّلْعَالَمِیْنَ ‘‘ میں ’’رَحْمَۃ‘‘ منادیٰ مضاف ہے، لہٰذا (ت)منصوب ہوگا ،لیکن بعض لوگ حرفِ ندا کے بغیر بھی ’’رَحْمَۃ ً لِّلْعَالَمِیْن ‘‘ بولتے ہیں، حالانکہ اسے ’’رَحْمَۃٌ لِّلْعَالَمِیْن‘‘ پڑھنا چاہیے۔
عربی گرامر (نحو) کا اصول یہ ہے کہ اِعراب کلمہ (لفظ) کے آخری حرف پر ہوتا ہے اورعوامل کے اختلاف کے سبب اعراب بدلتا رہتا ہے اور بعض اوقات معنی بھی بدل جاتے ہیں، کلمہ کے حروف کے شروع یا درمیان میں جو زبر، زیر، پیش یا جزم آتی ہے، اسے اِعراب نہیں بلکہ حرکت وسکون کہتے ہیں، اس میں اگر تلفظ میں یا پڑھنے میں غلطی کی جائے تویہ غلطی تو قرار پائے گی، لیکن عموماً معنی میں تبدیلی نہیں ہوتی۔( واللہ اعلم بالصّواب)
اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔
darululoomnaeemia508@gmail.com