• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

بیع کی تکمیل کے بعد اضافے کا تقاضا کرنے کا شرعی حکم

فائل فوٹو
فائل فوٹو

تفہیم المسائل

سوال: میں نے ایک شخص سے 1200گز کا ایک پلاٹ خریدا، جس کی قیمت چھ کروڑ پچاس لاکھ روپے طے پائی، میں نے دو کروڑ روپے ادا کردیے، پلاٹ پر قبضہ تھا، زبانی یہ طے پایا کہ پلاٹ خریدار خود خالی کرائے گا اور اس کے اخراجات بھی خریدار کے ذمے ہوں گے۔ قبضہ ختم ہونے کے بعد بقیہ ساڑھے چار کروڑ پلاٹ کے مالک کو دیا جائے گا۔

ہم نے قبضہ گروپوں کوساڑھے آٹھ کروڑ سے نو کروڑ روپے دے کر قبضہ ختم کرایا، زمین کا سودا ساڑھے چھ کروڑ روپے میں ہوا تھا، اب وہ شخص مزید سات کروڑ روپے کا مطالبہ کررہا ہے، ورنہ سودا ختم کرنے کا کہہ رہے ہیں، کیا یہ پیسہ بڑھا کرلینا درست ہے؟ (محمد یونس، کراچی)

جواب: بیع کی شرائط میں سے ایک شرط: ’’ مبیع کا مقدور التسلیم ہونا ہے‘‘ یعنی ’’بیع مکمل ہونے کے بعد بائع مبیع کو مشتری کے حوالے کرنے پر قدرت رکھتا ہو‘‘، رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے : ترجمہ:’’ جو چیز تمہارے پاس( یعنی تمہارے قبضے میں )نہ ہو، اُس کی بیع نہ کرو،(سنن ابو داؤد: 3497)‘‘۔ 

آپ کے علم میں تھا کہ پلاٹ پر عملاً دوسروں کا قبضہ ہے، تو آپ کو مقبوضہ پلاٹ کی بیع نہیں کرنا چاہیے تھی، پلاٹ مالک کے قبضے میں نہیں تھا اور پلاٹ کا قبضہ واگزار کرکے اُسے آپ کے قبضے میں دینا، اُس کی ذمے داری تھی،آپ نے بلا وجہ یہ ذمے داری اپنے سرلی۔

دوسرایہ کہ جب آپ نے معاہدہ کیا تو یہ طے کرلیتے کہ پلاٹ سے قبضہ ختم کرانے کے مصارف بائع (فروخت کرنے والے)کے ذمے ہوں گے یا قابضین کو پلاٹ سے ہٹانے کی ذمہ داری بائع کی ہوگی۔

ایجاب وقبول سے بیع منعقد ہوجاتی ہے، ایجاب وقبول کے بعد مبیع( فروخت کی جانے والی شے)کی قیمت اگر بڑھ جائے، تو بائع (فروخت کرنے والے) کو زائد رقم لینے کااختیار نہیں ہے، بلکہ طے شدہ قیمت پر ہی مُشتری کو دے گا، صورتِ مسئولہ میں چونکہ قیمت طے ہوچکی ہے، بائع نے دو کروڑ روپے وصول بھی کرلیے، تو اب اُسے قیمت بڑھانے یا یک طرفہ طور پر بیع فسخ کرنے کا اختیار نہیں ہے، بقیہ ساڑھے چار کروڑ ہی اُسے ملیں گے۔

علّامہ برہان الدین ابوالحسن علی بن ابو بکر فرغانی حنفی لکھتے ہیں: ترجمہ:’’ اور جب ایجاب وقبول دونوں ہوجائیں تو بیع لازم اور تمام ہوجاتی ہے اور بائع ومشتری میں سے کسی کو فسخ کااختیار حاصل نہیں رہتا ، سوائے اس کے کہ مبیع (فروخت شدہ چیز) میں کوئی عیب ظاہر ہوجائے یا مشتری نے بیع کے وقت مبیع کونہ دیکھا ہو،(ہدایہ ، جلد5،ص:60)‘‘۔

قبضہ ختم کرانے پرصرف ہونے والی رقم ساڑھے آٹھ کروڑ کی رقم آپ پر اضافی بوجھ ہے، حالانکہ بیع منعقد ہونے کے بعد پلاٹ پر قبضہ ختم کرانا بائع یعنی حاجی گلفام کے ذمے تھا، پلاٹ پر کسی دوسرے شخص کا قبضہ ہونا بھی عیب میں شمار ہوگا، لیکن مشتری مبیع کا مالک ہوجاتا ہے، البتہ مِلک لازم نہیں ہوتی۔

شریعت کاحکم تو یہی ہے کہ بائع اورمشتری دونوں عقدِ بیع کی پاس داری کریں، حدیث پاک میں معاہدے سے پھر جانے کو نفاق کی علامت بتایاگیا ہے، یہ ایک وعید ہے، اللہ تعالیٰ کافرمان ہے : ترجمہ:’’ اور عہد کو پورا کرو ، بے شک عہد کے بارے میں باز پرس ہوگی، (سورۂ بنی اسرائیل:34)‘‘۔

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ حاجی گلفام سے آپ نے زمین کاسودا ساڑھے چھ کروڑ روپے میں طے کیا، آپ نے دو کروڑ روپے ادا کردیے، ساڑھے چار کروڑ باقی ہیں ،حاجی گلفام کی طرف سے زائدرقم یعنی انہیں بقیہ ساڑھے چار کروڑ سے زائد رقم کا مطالبہ کرنے کا قطعاً کوئی حق نہیں ہے اورنہ آپ زائد رقم دینے کے پابند ہیں اور اب کسی ایک فریق کو دوسرے کی رضامندی کے بغیر بیع فسخ کرنے کا اختیار بھی حاصل نہیں ہے ۔( واللہ اعلم بالصّواب)

اپنے مالی وتجارتی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

darululoomnaeemia508@gmail.com

اقراء سے مزید