• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

پختہ قبر بنوانا اور اس پر ناجائز آمدن استعمال کرنا

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آپ کے مسائل اور ان کا حل

سوال: اگر کوئی مسلمان کسی مرحوم کے لیے باقاعدہ (مضبوط اور پختہ) قبر بنائے اور اس کے لیے ایسا مال استعمال کرے جو ناجائز (حرام) طریقے سے کمایا گیا ہو، تو اس عمل کا کیا حکم ہے؟ کیا ایسی قبر شرعاً درست شمار ہوگی؟ کیا اس گناہ کا بوجھ مرحوم پر ہوگا یا صرف اس شخص پر جس نے حرام مال استعمال کیا؟اسلامی تعلیمات کی روشنی میں ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیے؟

جواب: سوال میں دو پہلو ہیں، ہر ایک کا جواب درج ذیل ہے:

1- قبر (یعنی جتنی جگہ میں میّت ہے، اسے)پکی کرنے کے حوالے سے احادیث میں ممانعت آئی ہے، جس کی وجہ سے قبر پکی کرنا جائز نہیں، البتہ صرف حفاظت کی غرض سے دائیں بائیں سے کوئی پتھر لگا دینا کہ اصل قبر (یعنی جتنے حصے میں میّت فن ہے) کچی مٹی کی ہو، اور اردگرد پتھر یا بلاک وغیرہ سے منڈیر نما بنا دیا جائے یا معمولی سا احاطہ بنا دیا جائے کہ قبر کا نشان نہ مٹ جائے یا اردگر زمین پر پختہ فرش کردیا جائے، تاکہ قبر واضح ہوجائے، اس کی گنجائش ہے، لیکن اس کے لیے بھی سادہ پتھر استعمال کیا جائے، زیب زینت والا کوئی پتھر نہ ہو۔ نیز آگ پر پکی ہوئی اینٹیں بھی لگانے سے احتراز کرنا چاہیے۔

حضرت جابرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قبروں کو پختہ بنانے اور ان پر عمارت بنانے اور ان پر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب النھی عن تجصیص القبر، رقم الحدیث:970، ج:2، ص:667، ط:دار إحیاء التراث العربی)

2- حرام مال کا حکم یہ ہے کہ اگر وہ بغیر عوض حاصل کیا گیا ہو، جیسے: سود، چوری، رشوت وغیرہ، اور اس کا مالک معلوم ہو تو اس کے مالک کو واپس کرنا ضروری ہے، یعنی وہ جہاں سے آیا ہے، وہیں اسے واپس دے دیا جائے، مالک وفات پاچکا ہو تو اس کے ورثاء کو لوٹا دیا جائے۔

اگر حتیٰ الامکان کوشش کے باوجود مالک اور اس کے ورثاء کا پتا نہ چلے تو ثواب کی نیت کے بغیر وہ مال مستحقِ زکوٰۃ کو صدقہ کرنا ضروری ہے۔ اگر حرام مال کسی کام کے عوض حاصل کیا گیا ہو، جیسے حرام ملازمت وغیرہ کے ذریعے اجرت حاصل کی ہو تو اسے مالک کو واپس کرنا درست نہیں ہے، بلکہ اس کا یہی ایک مصرف ہے کہ اسے ثواب کی نیت کے بغیر صدقہ کردیا جائے۔

لہٰذا حرام مال کو قبر کے اخراجات میں استعمال کرنا جائز ہی نہیں ہے، خواہ قبر کچی ہو۔ اگر قبر کو پختہ بنایا تو یہ الگ گناہ ہے۔ میّت نے اگر اپنی قبر پختہ کرنے کی وصیت نہ کی ہو تو بہر صورت اس کا گناہ مرحوم کو نہیں ہوگا، بلکہ اس کا وبال قبر پختہ بنوانے والے پر ہوگا، اسے چاہیے کہ وہ اتنی رقم ثواب کی نیت کے بغیر فقراء وغرباء کو دے دے۔

اگر فتنہ کا اندیشہ نہ ہو تو قبر میں میّت کے سیدھ والے حصے کی پکی تعمیر کو ختم کرکے کچی مٹی والی کردے۔ (حاشية الطّحطاوي علىٰ مراقی الفلاح، 1 / 611، باب أحكام الجنائز، فصل في حملها ودفنها، ط: دار الكتب العلمية بيروت ،لبنان۔ ردّ المحتار، 5/99،مَطْلَبٌ فِيمَنْ وَرِثَ مَالًا حَرَامًا، ط: سعید)

اپنے دینی اور شرعی مسائل کے حل کے لیے ای میل کریں۔

iqra@banuri.edu.pk

اقراء سے مزید