• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

مولانا احتشام الحق تھانوی کٹر پاکستانی

تحریر… مولانا تنویر الحق تھانوی
میرے عظیم والد ماجد خطیب پاکستان مفسر قرآن حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کو آج مسلمانان پاکستان سمیت پوری امت مسلمہ سے جدا ہوئے 46 سال ہوگئے۔ اناللہ وانا الیہ راجعون۔ حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ معدودے چند کے علاوہ دنیا بھر میں 90۔95 فیصد حضرات و افراد کی نظر میں بے حد محبوب مقام رکھتے ہیں اور آج بھی سینہ بہ سینہ دادا و نانا اور بیشتر والدین کے ذریعے پوتوں اور نواسوں کے دلوں میں ان کی محبت و عقیدت منتقل ہوچکی ہے۔ حضرت مولانا کی شخصیت اور اللہ کی ودیعت کردہ درجنوں خوبیاں اور اوصاف نیز اخلاق حسنہ اور معاشرتی دینی و دنیاوی سیرت و کردار کا کماحقہ‘ احاطہ کرنے کے لیے بلا جھجک اس لفظ کا سہارا لینا پڑتا ہے کہ ’’جوئے شیر لانے‘‘ کے مترادف لگتا ہے۔ بہت سے لکھنے والے اس نصف صدی میں لکھ کر چلے گئے لیکن آج بھی ان کی ہردلعزیز شخصیت کا حق ادا نہ کرسکے۔۔ عاشقوں اور عقیدتمندوں کا لکھا ہوا ایک ایک حرف میرے خاندان اور نسل نو کے سینوں کا تمغہ اور سروں کا تاج ہے۔
لیکن مَیں حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کا ساتویں نمبر کا بیٹا، 56 سال سے ہنوز ان کے پابہ قدم رہ کر یہاں تک پہنچنے والا (عندالخلق والعوام) سمجھا جانے والا قبول صورت جانشین ’’اللہم استقِم‘‘تنویر الحق تھانوی کو قلم اٹھانے کی سعادت ملی ہے۔
میں آج اپنے والد محترم کی ہمہ گیر شخصیت پرکچھ اس انداز سے لکھنے کی کوشش کروں گا کہ 46 سالہ اس جدائی کے دوران کوئی بھی نہیں لکھ پایا۔۔ شاید۔
قارئین محترم! 46 سالہ جدائی اور محرومی نعمت کے اس طویل عرصہ میں احقر کے سامنے حضرت کی جانشینی کے عوض بیشتر ثمرات و قدرے مضرّات کا ایک بے کراں ہجوم ہے کہ آج 68 سالہ عمر میں قویٰ واعضاء کے انحطاط اور کمزوری ونا توانی کی جملہ کیفیات کے ہوتے ہوئے بھی ایک ایک ذرہ صاف صاف نظر آجاتا ہے الحمدللہ۔ لیکن مَیں صرف اور صرف ثمرات کا دامن تھامے رکھنے کی کوشش کروں گا۔ اس 46 سالہ جانشینی کے دوران آج تک بھی 90۔95 سال کے عمر رسیدہ حضرات سمیت ادھیڑ عمر 50-40 سال کی عمروں تک تو سب تقریباً وہ لوگ تھے یا یقینا اب بھی بقید حیات ہوں گے، کہ جنہوں نے حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کو خوب خوب دیکھا ہوگا، 50 سال والوں کے سامنے توسنی سنائی باتیں ہوں گی کیونکہ 50 سال والا تو، بہ وقت وصال 4 ہی سال کا ہوگا جس کے سامنے سب کچھ دھندلا ہی ہوسکتا ہے۔
غرضیکہ ہر شعبۂ زندگی سے تعلق رکھنے والے کراچی سمیت پاکستان بھر میں اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں (امریکہ و کینیڈا) کے علاوہ، جو بھی بزرگ ملے، زیادہ تر تو حلیے لباس وضع قطع اور سب سے اہم عطیۂ خداوندی یعنی انداز تلاوت قرآن سے پہچان گئے، بہت سے ایسے بھی ملے کہ قدرے سوالات اور بات چیت کے نتیجے میں پہچان گئے، اور پھر پُرتپاک انداز میں چونک کر واہ واہ اور عش عش کر اٹھے کہ اوہو! اتنی بڑی ہستی کی اولاد ہیں آپ؟
لیکن میرے قارئین بھائیو اور بہنو! بلامبالغہ لکھ رہا ہوں کہ سب کا یہ کہنا ہوتا تھا اور ہوتا ہے کہ ارے صاحب! ہمیں یاد ہے کہ جیکب لائن مسجد میں مولانا احتشام الحق تھانویؒ شب قدر میں لائٹس آف کرکے جو دعا کراتے تھے، آپ کے والد ، وہ لا الٰہ الاّ اللہ کے اشعار، مزہ آجاتا تھا کیا آواز تھی دلوں پر اثر کرجاتی تھی، اور صاحب ! قرآن پڑھنے کا انداز بھی بڑا منفرد تھا وغیرہ وغیرہ، سن کے فوری طور پر خوشی ہوتی لیکن کچھ دیر کے بعد ملال اور احساس کمتری سا ہونے لگتا تھا وہ اس طرح کہ یار بس! مولانا احتشام الحق تھانوی کی فقط یہی ایک خوبی تھی بس گلا اور ترنم اور آواز کی چاشنی بس! اور کچھ نہیں۔
برا نہ مانیے گا جہاں آپ نے ملک پاکستان کے مایہ ناز گلوکار اور گویّوںکی آواز اور گائیکی کو پسند کیا اُسی زمرے میں اتنی بڑی ہستی حضرت مولانا احتشام الحق تھانوی کو بھی مختص و محدود کردیا۔
جبکہ تحریک پاکستان میں حضرت مولانا اشرف علی تھانوی رحمۃ اللہ علیہ کی رہنمائی میں قائد اعظم محمد علی جناح کے شانہ بہ شانہ کام کیا۔ قیام پاکستان کے کٹر حامی و خیرخواہ تادم آخر رہے۔ سالمیت پاکستان کے لیے کیا کچھ نہیں کیا؟ 1951ء میں تمام مکاتیب فکر کے جید علماء کو جمع کرکے اسلامی نظام کے نفاذ کی سہولت کے لیے 22 بنیادی نکات مرتب کیے۔ 1957ء میں محرک اعظم بن کر ابھرے اور وفاق المدارس کی تنظیم بنائی۔ غرضیکہ ایک طول طویل فہرست ہے جو آج بھی لکھنے والوں کی تحریروں میں مل جائیں گی۔
آخر میں مَیں پاکستان کے پڑھے لکھے طبقوں کو سچائی کا آئینہ دکھانا چاہوں گا کہ مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی فراست ایمانی‘ مبنی برحقیقت پیشین گوئیاں ظالم و جابر حکمرانوں کے غیر اسلامی اور غیر شرعی اقدامات کی ڈٹ کر مخالفت اور ارباب سیاست کے ہر 5 سال بعد غیرفطری جوڑ توڑ اور نفاذ اسلام کی آڑ میں جمہوریت کی بربادی پر قوم کو وقت سے پہلے آگاہ کرنا، ایک موقع پر پوری قوم کو آگاہ کردینا کہ یہ ۹ پارٹیوں کا اتحاد افغانستان کے ساتھ مل کر سرحد و بلوچستان کو علیحدہ کرکے گریٹر پختونستان بنانے کی سازش ہے ۔ کیا آج یہ بات 50 سال کے بعد ایک حقیقت نہیں بن چکی۔ نام نہاد جہاد افغانستان کو پہلے دن سے مولانا احتشام الحق تھانویؒ کی دوربین نگاہوں نے یکسر مسترد کردیا تھا۔
میرے والد حضرت مولانا احتشام الحق تھانویؒ کٹر پاکستانی تھے، تمام عمر وہ کشمیر فلسطین، برما اور ایتھوپیا کے مظلوم مسلمانوںکی آزادی اور بعض فوجی حکومتوں سے اختلاف کے باوجودافواج پاکستان کے لیے ہمیشہ ہمیشہ دعا خیر کرتے رہے۔
ملک بھر سے سے مزید