ملتان (سٹاف رپورٹر) محکمہ صحت نے غیر پیشہ ورانہ رویے، احتجاج اور ہسپتالوں کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے کے الزامات پر مختلف ہسپتالوں کے 8 پوسٹ گریجویٹ ڈاکٹروں کے مستقل پریکٹسنگ لائسنس منسوخ کرنے کے لیے پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کو مراسلہ ارسال کر دیا، اس سے قبل 2 مئی 2025 کو بھی اسی نوعیت کی درخواست ارسال کی گئی تھی، ایک سال گزرنے کے باوجود اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا، جن ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے ان میں ڈاکٹر سلیمان غفور، ڈاکٹر احمد یار، ڈاکٹر فخر منیر سیال، ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر محمد ارسلان رضا، ڈاکٹر کاشف سعید، ڈاکٹر حمید ارشد چٹھہ اور ڈاکٹر ندیم ثاقب شامل ہیں، یہ ڈاکٹر نشتر ہسپتال ملتان، چلڈرن ہسپتال لاہور، بینظیر بھٹو ہسپتال راولپنڈی اور پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی لاہور سے وابستہ ہیں، ان پر غیر پیشہ ورانہ رویے، احتجاج اور ہسپتالوں کے نظام میں رکاوٹ ڈالنے جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں، محکمہ صحت نے پی ایم ڈی کونسل کے رجسٹرار سے مطالبہ کیا ہے کہ اس معاملے پر فوری طور پر ڈسپلینری کمیٹی کا اجلاس طلب کیا جائے اور ملوث ڈاکٹروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔