کراچی (محمد منصف) سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محمد حسن اکبر نے ایک عدالتی فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے آبرزویشن میں کہا ہے کہ صوبے کی ماتحت عدالتوں کو دیوانی مقدمات میں کسی بھی شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے اختیار نہیں۔نادرا کو منجمد کیا گیا شہری کا این آئی سی فوری طور پر بحال کرنے کا حکم دے دیا۔ درخواست گزار ملک علی زین نے ماتحت عدالت کے فیصلے کے خلاف دو درخواستیں دائر کی تھیں جس میں قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم نامہ چیلنج کیا تھا ، درخواست گزار اور دیگر کے خلاف ماتحت عدالت نے ایک دیوانی مقدمے میں ڈکری جاری کی تھی اور ڈکری ہولڈر نے مذکورہ عدالت میں زیر دفعہ 151 سی پی سی کے تحت علی زین اور دیگر کے قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کی درخواستیں دائر کی تھیں کہ مدعلیہان ڈگری پر عمل درآمد نہیں کر رہے اور نہ ہی کورٹ سے جاری سمن کا کوئی جواب دے رہے ہیں جس پر ماتحت عدالت نے مذکورہ درخواست گزار علی زین و دیگر کے قومی شناختی کارڈز بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ عدالت عالیہ نے طرفین دلائل سننے کے بعد آبزرویشن میں کہا کہ ماتحت عدالت نے فیصلہ سی پی سی 151 کے تحت نہیں کیا اور مذکورہ دفعہ کے تحت بھی قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ جسٹس حسن اکبر نے واضح کرتے ہوئے مزید کہا ہے دیوانی مقدمات میں کوئی قانون کسی شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ قومی شناختی کارڈ کسی بھی شہری کے لئے بنیادی حقوق میں نہایت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ فاضل جج نے سپریم کورٹ کے ایک فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے دیوانی مقدمات میں دفعہ 151 کے تحت گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے سے قبل بھی ضرور قواعد و ضوابط پورے کرنے پڑتے ہیں جبکہ شناختی کارڈ بلاک کرنے کا معاملہ اس سے کہیں زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔