• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

ام رباب چانڈیو کیس کے فیصلے کے بعد عدالتی کردارکشی کا معاملہ، پولیس کی تیز کارروائیاں

دادو( نامہ نگار جاوید ناریجو) ام رباب چانڈیو کے اہل خانہ کے تہرے قتل کے عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر عدالتی کردار کشی کے معاملے پر پولیس نے کارروائیاں تیز کر دیں، پولیس کے مطابق مختلف اضلاع میں چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران 8ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے جن میں نعمان شاکر، مسرور خالد حسین، ڈاتل ارشاد، امتیاز احمد سمیت دیگر شامل ہیں، پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار ملزمان کے اعترافی اور ندامت پر مبنی ویڈیو بیانات بھی جاری کیے گئے ہیں جن میں ملزمان نے معافی مانگتے ہوئے اپنی غلطی تسلیم کی، ملزمان کے مطابق انہوں نے ام رباب چانڈیو کے اہل خانہ کے تہرے قتل کیس کے فیصلے پر بغیر تصدیق جذباتی پوسٹس شیئر کیں، ملزمان نے اعتراف کیا کہ مذکورہ فیصلہ ماڈل ٹرائل کورٹ کا تھا اور اس کا ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ سے کوئی تعلق نہیں تھا تاہم انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زاہد حسین میتلو کے خلاف غیر اخلاقی زبان استعمال کی، ملزمان نے مزید کہا کہ غیر مصدقہ معلومات کے باعث ماحول خراب ہوا اور آئندہ احتیاط برتیں گے، واضح رہے کہ 30مارچ کو ام رباب چانڈیو کیس کے عدالتی فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر عدالتی کردار کشی کی مہم شروع ہوئی تھی جس پر ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج زاہد حسین میتلو کی ہدایات پر اے سیکشن تھانہ دادو میں مقدمہ درج کیا گیا تھا، پولیس کے مطابق کیس کا فیصلہ ماڈل کورٹ نے سنایا تھا تاہم ملزمان نے غلط طور پر سیشن جج کے خلاف مہم چلائی۔

ملک بھر سے سے مزید