کراچی (نیوز ڈیسک) امریکا ایران مذاکرات سے بہت امیدیں تھیں کہ ان میں معاہدہ ہوجائیگا ،ابتدائی مرحلے میں پیش رفت مثبت رہی۔ تاہم جلد ہی مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق بنیادی اختلافات جوں کے توں رہے، جن میں تقریباً 400 کلوگرام انتہائی افزودہ یورینیم کا حساب نہ ہونا اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے ایران کا انکار شامل تھا۔ برطانوی ا خبار ٹیلی گراف نے بتایا کہ اطلاعات کے مطابق امریکہ نے ایک مشترکہ منصوبہ تجویز کیا تھا جس کے تحت اس اہم بحری راستے سے گزرنے والے جہازوں پر ٹول عائد کر کے جنگی اخراجات پورے کیے جائیں۔مذاکرات میں سب سے بڑی رکاوٹ ایران کا جوہری پروگرام ثابت ہوا۔