• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کفایت شعاری مہم مذاق، بلاول بھٹو قافلے میں 20 سے زائد گاڑیاں

جیکب آباد (نامہ نگار خاوند بخش بھٹی) کفایت شعاری مہم مذاق بن گئی۔ بلاول کے قافلے میں20 سے زائد گاڑیاں، عوامی سوالات تیز تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں پیپلزپارٹی چیئر مین بلاول بھٹو زراداری کی آمد کے موقع پر کفایت شعاری کے دعووں کی قلعی کھل گئی، جب ان کے قافلے میں 20 سے زائد گاڑیاں شامل دیکھ کر شہری حیران رہ گئے۔ ایک جانب حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کا زور و شور سے اعلان کیا جا رہا ہے، جبکہ دوسری جانب اعلیٰ شخصیات کے پروٹوکول میں بھاری بھرکم قافلوں کا استعمال اس مہم پر سوالیہ نشان بن گیا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر حکمران خود سادگی اختیار نہیں کریں گے تو عوام سے قربانیوں کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے؟علاقہ مکینوں نے اس صورتحال کو دہرے معیار قرار دیتے ہوئے کہا کہ مہنگائی اور معاشی دباؤ کے شکار عوام کو سادگی کا درس دیا جا رہا ہے، جبکہ عملی طور پر شاہانہ انداز اپنایا جا رہا ہے۔ دوسری جانب سیکیورٹی کے سخت انتظامات کے باعث شہر کے مختلف راستے بند رہے، جس سے ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور شہریوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ شہری و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ کفایت شعاری مہم کو صرف بیانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی اقدامات کیے جائیں اور حکمران خود مثال قائم کریں، تاکہ عوام کا اعتماد بحال ہو سکے۔ بلاول بھٹو زرداری کی آمد سے قبل جیکب آباد میں کاروبار بند،سیکیورٹی کے نام پر شہریوں کی زندگی مفلوج تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں پیپلزپارٹی چیئر مین بلاول بھٹو زرداری کی تعزیت کیلئے آمد سے قبل انتظامیہ نے سیکیورٹی کے نام پر سول ہسپتال روڈ پر قائم میڈیکل اسٹورز سمیت تمام دکانیں بند کرا دیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اچانک کیے گئے ان اقدامات کے تحت نہ صرف کاروباری سرگرمیاں معطل ہو گئیں بلکہ پانی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔ پانی کی ٹنکی بند کیے جانے سے گھروں تک پانی پہنچانے والے افراد بھی بے روزگار ہو گئے، جس سے سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک اہم سیاسی شخصیت کی آمد کے نام پر روزمرہ زندگی کو مفلوج کر دینا کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ شہریوں نے شکایت کی کہ مریضوں کو ادویات کے حصول میں مشکلات پیش آئیں جبکہ دیگر ضروری اشیاء کی فراہمی بھی متاثر رہی۔دوسری جانب شہر کے مختلف راستوں پر سینکڑوں اہلکار تعینات کیے گئے اور سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے، جس سے ٹریفک کی روانی بھی بری طرح متاثر ہوئی۔شہری حلقوں نے انتظامیہ کے اس اقدام کو دہرے معیار سے تعبیر کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سیکیورٹی کے نام پر عوام کو مشکلات میں ڈالنے کے بجائے متوازن حکمتِ عملی اپنائی جائے، تاکہ نہ صرف سیکیورٹی یقینی بنائی جا سکے بلکہ شہریوں کی روزمرہ زندگی بھی متاثر نہ ہو۔

اہم خبریں سے مزید