• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ نے16سالہ افغان لڑکے کی ضمانت منظور کرلی

پشاور(نیوزرپورٹر) چیف جسٹس پشاور ہائی کورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ پر مشتمل سنگل رکنی بنچ نے 16سالہ افغان لڑکے کی ضمانت کے لئے دائر درخواست منظور کرلی اور قرار دیا کہ جوینائل ایکٹ کے تحت درخواست گزار کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا اور اس کی ضمانت پر رہائی قانون کے مطابق اس کا حق ہے ۔فاضل بنچ نے یہ احکامات گزشتہ روز خوشنما خان ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر حمزہ کی ضمانت پر رہائی کے لئے دائر رٹ درخواست کے سماعت کے دوران دیئے ۔فاضل بنچ نے کیس کی سماعت شروع کی تو اس موقع پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مذکورہ حمزہ کی عمر 16 سال ہے جسے 28 فروری 2026 کو پولیس سٹیشن خزانہ کی حدود سے افغانی ہونے پر گرفتار کیا گیا اوراس کے خلاف 14 فارن ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا استغاثہ کا موقف تھا کہ درخواست گزار کے پاس نہ پاسپورٹ ہے اور نہ ہی پاکستانی ویزہ کیونکہ وہ غیرقانونی طور پر یہاں پر مقیم ہے۔ انہوں نے عدالت کوبتایا کہ جوینائل ایکٹ کے تحت درخواست گزار کو جیل میں نہیں رکھا جا سکتا جب تک وہ کسی بڑے جرم میں ملوث نہ ہو اس کے ساتھ ساتھ وہ افغانی ہے اور یہاں پر پیدا ہوا ہے اس لئے اس کے پاس ویزہ اور پاسپورٹ نہیں اس موقع پر عدالت کی حکم پر اسے ویڈیو لنک کے ذریعے پیش کیا گیا۔عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر ضمانت کے لئے دائر درخواست منظور کرلی اور قرار دیا کہ جوینائل ایکٹ کے تحت درخواست گزار کو غیرمعینہ مدت تک کے لئے جیل میں بند نہیں رکھا جا سکتا اس کے ساتھ ساتھ عدالت نے یہ بھی ہدایت کی کہ افغان مہاجرین کے ڈی پورٹیشن کے عمل میں اگر ضروری ہو تو درخواست گزار کے لئے ڈی پورٹیشن کے عمل میں اسانی پیدا کی جائے۔
پشاور سے مزید