کراچی (رفیق مانگٹ) برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی تحقیق کے مطابق ایران نے خفیہ طور پر ایک چینی جاسوس سیٹلائٹ حاصل کیا جس نے حالیہ جنگ کے دوران مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کی نئی اور مؤثر صلاحیت فراہم کی۔ خفیہ معلومات کے مطابق چینی کمپنیوں نے سیٹلائٹ اور گراؤنڈ نیٹ ورک فراہم کیا، جس سے عالمی سطح پر کنٹرول ممکن ہوا ،ایران سیٹلائٹ کیلئے 36.6 ملین ڈالر ادا کیے،معاہدے میں سیٹلائٹ، لانچنگ، تکنیکی معاونت شامل، چینی حکومت نے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہمعلومات غیر مصدقہ ہیں ، بیجنگ نے ہمیشہ امن کیلئے کام کیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق برطانوی اخبار کا کہنا ہے کہ لیک ہونے والی ایرانی فوجی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ “TEE-01B” نامی یہ سیٹلائٹ 2024 کے اواخر میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کی ایرو اسپیس فورس نے حاصل کیا، جسے چین سے خلا میں بھیجے جانے کے بعد ایران کے حوالے کیا گیا۔دستاویزات کے مطابق ایرانی فوجی کمانڈرز نے اس سیٹلائٹ کو اہم امریکی فوجی تنصیبات کی نگرانی کے لیے استعمال کیا۔ سیٹلائٹ تصاویر مارچ میں ان مقامات پر ڈرون اور میزائل حملوں سے قبل اور بعد میں حاصل کی گئیں۔