• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

لبنان، اسرائیل میں بھی جنگ بندی پر اتفاق، حزب اللّٰہ نے مطالبات پیش کردیئے، ایران کو پھر امریکی دھمکیاں

کراچی (نیوز ڈیسک) لبنان اور اسرائیل نے بھی جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے ، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ان کی لبنانی صدر جوزف عون اور اسرائیل کے وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو سے گفتگو ہوئی ہے ، دونوں ممالک 10 دن کی جنگ بندی پر اتفاق کر چکے ہیں،ٹرمپ نے کہا کہ حزب اللہ بھی جنگ بندی معاہدے میں شامل ہے، ٹروتھ سوشل پر ایک پوسٹ میں امریکی صدر نے کہا کہ جنگ بندی امریکی وقت کےمطابق شام 5بجے جبکہ لبنان کےمقامی وقت کے مطابق رات 12بجے سے شروع ہوگی ، انہوں نے دعویٰ کیا کہ یہ ان کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ وہ اب تک 9جنگیں ختم کرواچکے ہیں اور یہ 10ویں ہوگی،اپنی ایک اور پوسٹ میں انہوں نے لکھا کہ نیتن یاہو اور جوزف عون کو اسرائیل اور لبنان کے درمیان ’معنی خیز بات چیت‘ کے لئےوائٹ ہاؤس مدعو کریں گے اور یہ دونوں ممالک کے درمیان 1983 کے بعد پہلے مذاکرات ہوں گے،دونوں فریق امن چاہتے ہیں اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ جلد ہی ہو جائے گا۔دوسری جانب حزب اللہ نے جنگ بندی سے متعلق اپنے مطالبات پیش کردیئے ہیں۔ حزب اللہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں ’لبنانی سرزمین پر ہر جگہ حملوں کا مکمل خاتمہ‘ اور ’اسرائیلی افواج کے لئے نقل و حرکت کی کوئی آزادی نہ ہونا‘ جیسے نکات شامل ہونا چاہئیں۔حزب اللہ نے ’دو مارچ سے پہلے کی صورتِ حال کی بحالی‘ کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ لبنانی سرزمین پر اسرائیل کا مسلسل قبضہ لبنان اور اس کے عوام کو مزاحمت کا حق دیتا ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیہ بری سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ لبنان میں جنگ بندی ایران کے لیے اتنی ہی اہم ہے جتنی ایران میں جنگ بندی۔دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور اسرائیلی وزیر جنگ اسرائیل کاٹز نے ایران کو دھمکیاں دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حکومت کو دانشمندی سے فیصلہ کرنا چاہیے، تہران معاہدہ کرے ورنہ اسے دوبارہ جنگ کا سامنا ہوگا،امریکا اور اسرائیل کے پاس دوبارہ جنگی کارروائیاں شروع کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے تہران میں پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا ہے کہ لبنان کو کسی بھی جامع جنگ بندی میں لازمی شامل کیا جانا چاہیے۔ان کا کہنا تھا"لبنان جامع جنگ بندی کا ایک اٹوٹ حصہ ہے۔"اس موقع پر فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ان مذاکرات کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ ’’میں لبنان میں جنگ بندی کی اہمیت کو سمجھتا ہوں اور میں اس پر نظر رکھوں گا۔"اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ انہوں نے لبنان میں 10 روزہ عارضی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا ہے تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان امن معاہدے کی کوششوں کو وقت دیا جا سکے۔ایک ویڈیو بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ امن معاہدے میں ایران کی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کا خاتمہ شامل ہونا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں ہی موجود رہیں گی۔نیتن یاہو نے یہ بھی کہا کہ ٹرمپ نے انہیں یقین دلایا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی جاری رکھنے اور ایران کی جوہری صلاحیتوں کو ختم کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔امریکی نیوز ایجنسی کا کہنا ہے کہ لبنانی صدر جوزف عون نے جنگ بندی اعلان سے قبل اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کیساتھ ٹیلی فون پر بات چیت کرنے سے انکارکردیا تھا ۔حزب اللہ کے سینئر رکن پارلیمنٹ حسن فضل اللہ کا کہنا ہے کہ انہیں قلیل مدتی جنگ بندی پر بریف کر دیا گیا ہے۔یورپی یونین نے بھی دس روزہ جنگ بندی کا خیرمقدم کیا ہے۔

اہم خبریں سے مزید