اسلام آباد/تہران (نیوزرپورٹر/اے ایف پی / نیوزڈیسک )پاکستان کے آرمی چیف وچیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈمارشل عاصم منیر کی تہران میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات ‘ پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرزکا دورہ ‘آئی آرجی سی کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبداللہی سے ملاقات ‘ جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات اور تہران میں ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت سے متعلق تبادلہ خیال کیا گیا‘فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس موقع پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے لیے جاری کوششوں کو تسلسل کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے‘فیلڈمارشل نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے بھی ملاقات کی ہے تاہم اس ملاقات کا باضابطہ اعلامیہ ابھی تک جاری نہیں کیا گیا ہے۔ ادھرایک سینئر ایرانی اہلکار نے برطانوی خبر رساں ایجنسی کو بتایاہے کہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیچیدہ معاملات پر بریک تھروہوگیاہے تاہم جوہری پروگرام پر بنیادی اختلافات برقرار ہیں‘ واشنگٹن پابندیاں ہٹانے اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنے کی پیشکش کر رہا ہےتاہم تہران مستقبل جنگ بندی اور مستقبل میں دوبارہ حملہ نہ کرنے کی اقوام متحدہ کی ضمانت چاہتاہے ۔دوسری جانب وزیر اعظم شہباز شریف نے دوحا میں امیر قطر شیخ تمیم بن حمدالثانی سے ملاقات کی جو ایک گھنٹہ سے زائد جاری رہی ‘اس موقع پر دونوں رہنماؤں نے سکیورٹی‘ دفاع اور توانائی کے شعبوں میں تعاون کو وسعت دینے پر اتفاق کیا ۔قطر کے دورے کے بعد شہباز شریف شٹل ڈپلومیسی کے تیسرے مرحلے میں جمعرات کی شام اپنے دورہءِ ترکیہ پر انطالیہ پہنچ گئے جہاں ان کی ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان سے ملاقات ہوئی ‘سینیٹر اسحاق ڈار اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی ملاقات میں موجود تھے۔ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کا کہنا ہے کہ تاحال تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کی تاریخ کا تعین نہیں کیا گیا تاہم اس حوالے سے پاکستان کی کوششیں جاری ہیں۔ تفصیلات کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اپنے سرکاری دورہ ایران کے دوران ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے ملاقات کی۔ ملاقات میں خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال‘ ایران امریکا مذاکرات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر پاکستان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا کہ مذاکرات اور سیاسی مکالمہ ہی خطے میں پائیدار امن کا واحد راستہ ہیں‘بعد ازاں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران میں پاسداران انقلاب کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انہوں نے آئی آرجی سی کمانڈر سے ملاقات کی ہے۔ملاقات کے دوران فیلڈمارشل عاصم منیر نے آئی جی آر سی کے کمانڈر کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے فریم ورک کے تحت کیے گئے اقدامات اور تہران میں ہونے والی اپنی حالیہ بات چیت سے متعلق گفتگو کی۔دریں اثناءایک سیکورٹی ذریعے نے بتایا کہ امریکا ایران معاہدہ قریب ہے اور واشنگٹن چاہتا ہے کہ اگلے ہفتے جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے کوئی نتیجہ نکل آئے۔ واشنگٹن پابندیاں ہٹانے اور اربوں ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثوں کو بحال کرنے کی پیشکش کر رہا ہے تاہم ایران کا موقف ہے کہ وہ آبنائے ہرمز صرف اسی صورت میں کھولے گا جب مستقل جنگ بندی ہو اور اقوام متحدہ اس بات کی ضمانت دے کہ امریکا اور اسرائیل مستقبل میں دوبارہ حملہ نہیں کریں گے۔ سینئر ایرانی اہلکارکے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کے دورہ تہران نے کچھ شعبوں میں اختلافات کم کرنے میں مدد دی ہے جس سے جنگ بندی میں توسیع اور تہران و واشنگٹن کے درمیان نئے سرے سے مذاکرات کی امیدیں بڑھ گئی ہیںتاہم افزودہ یورینیم اورجوہری پابندیوں کی مدت کے معاملات تاحال غیر حل شدہ ہیں۔ علاوہ ازیں دورہ قطر کے دوران شہباز شریف اور امیرِ قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے درمیان دوحا میں ملاقات ہوئی جو ایک گھنٹے سے زائد جاری رہی۔ دونوں رہنماؤں نے حالیہ علاقائی اور عالمی پیش رفت پر تفصیلی تبادلہ خیال بالخصوص مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر گفتگو کی۔