• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

کنفیوشس کارنر کا قیام مستقبل کی قیادت کیلئے مفاہمت کا پل، چینی قونصل جنرل لاہور

لاہور (آصف محمود بٹ) پاکستان اور چین کے درمیان روایتی مضبوط عسکری تعاون کے بعد تعلقات ایک نئے دور میں داخل ہو گئے ہیں، جہاں ادارہ جاتی روابط، علمی اشتراک اور سول قیادت کی تربیت کو مرکزی حیثیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس پیش رفت کی علامت کے طور پر سول سروسز اکیڈمی (سی ایس اے) کے پاکستان ایڈمنسٹریٹو سروس (پی اے ایس) کیمپس میں چینی انفارمیشن ریسورس سینٹر کے تحت کنفیوشس کارنر کا افتتاح کیا گیا، جو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کے نئے مرحلے کی عکاسی کرتا ہے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے لاہور میں چین کے قونصل جنرل سن یان نے کنفیوشس کارنر کو ’’پی اے ایس کیمپس میں جڑی دوستی کی علامت‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض کتب کا ذخیرہ نہیں بلکہ بہتر رابطے، گہری سمجھ بوجھ اور مضبوط دوستی اور مستقبل کی قیادت کیلئے ایک مؤثر پل ہے۔،جبکہ ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ کا کہنا ہے کہ کنفیوشس کارنر اکیڈمی کی علمی روایت میں سنگ میل ہے جس سے تحقیق، دوستی اور باہمی تعاون پر مبنی نئے باب کا آغازہے، ۔ سن یان نے ٹیکنالوجی، گرین انرجی اور غربت کے خاتمے میں چین کی نمایاں کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ملک اب اپنے 15ویں پانچ سالہ منصوبے کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ دوسری جانب ڈائریکٹر جنرل سی ایس اے فرحان عزیز خواجہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ اکیڈمی کا بنیادی مقصد سول سرونٹس کو آئین، بنیادی حقوق اور قومی پالیسی ترجیحات سے ہم آہنگ علم، مہارت اور رویوں سے آراستہ کرنا ہے۔ انہوں نے پروبیشنرز کے تبادلے، مشترکہ تربیتی پروگرامز اور وسیع تر تعلیمی مواقع کے ذریعے تعاون بڑھانے کی تجویز بھی پیش کی اور امید ظاہر کی کہ اس سے دونوں ممالک کے درمیان ادارہ جاتی روابط مزید مضبوط ہوں گے۔

اہم خبریں سے مزید