پیرس (رضا چوہدری/ نمائندہ جنگ) ٹرمپ کے متوقع دورۂ پاکستان پر مسئلہ کشمیر پر بات ہوگی، 2019میں ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کرانے کی پیشکش کی تھی؛ بھارت نے سیاسی بیان قرار دیا ۔ تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سال 2019 میں کشمیر پر ثالثی کرانے کےلئے پیشکش کی تھی اور ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ پاکستانی وزیر اعظم عمران خان نے اس سلسلہ میں ان سے مدد مانگی تھی۔ پاکستان نے اس پیشکش کا خیر مقدم کیا جبکہ بھارت نے فوراً اس بات کو مسترد کر دیا تھا۔ بھارت کا مؤقف تھا کہ کشمیر ایک دو طرفہ مسئلہ ہے اور کسی تیسرے فریق کی مداخلت قبول نہیں۔ بھارت نے ٹرمپ کی پیشکش سیاسی بیان قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ ثالثی تبھی ممکن ہے جب دونوں ممالک راضی ہوں جو کہ اب تک نہیں ہوا، جبکہ اب بھی ٹرمپ کا مؤقف یہی ہے کہ اگر دونوں ممالک چاہیں تو مدد کر سکتے ہیں، خود سے مداخلت نہیں کریں گے، لہٰذا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے متوقع دورہ پاکستان کے دوران مسئلہ کشمیر پر بات ضرور ہوگی جب پاک بھارت مئی 2025 جنگ کا تذکرہ ہوگا۔