اسلام آ باد ( رانا غلام قادر) بیورو کریسی کیلئے ا ہم خبر ہے کہ وفاقی حکومت نے سول سرونٹس کنڈکٹ رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت سرکاری ملازمین کیلئے مفادات کے ٹکراؤ، اثاثوں کی تفصیلات، سوشل میڈیا کے استعمال، تحائف، اضافی ملازمت اور سیاسی سرگرمیوں پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ گریڈ 17 و بالا افسران کو سالانہ اپنے اثاثے ظاہر کرنا ہوں گے جبکہ خلاف ورزی پر سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔ نئے قواعد کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا ہے۔ اس ٹیبلشمنٹ ڈویژن کے ذرا ئع نے بتایا کہ وفاقی حکومت نے سرکاری ملازمین کے طرزِ عمل کو مزید منظم اور شفاف بنانے کیلئے سول سرونٹس (کنڈکٹ) رولز 2026 نافذ کر دیے ہیں، جن کا اطلاق فوری طور پر ملک بھر اور بیرونِ ملک تعینات تمام سول سرونٹس پر ہوگا، اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق یہ قواعد وزیرِاعظم کی منظوری سے سول سرونٹس ایکٹ 1973 کے تحت مرتب کیے گئے ہیں، نئے قواعد کے تحت سرکاری ملازمین کیلئے مفادات کے ٹکراؤ، اثاثہ جات کی تفصیلات، سوشل میڈیا کے استعمال، تحائف و مراعات، اضافی ملازمت اور سیاسی سرگرمیوں سے متعلق جامع اور سخت ضابطے متعارف کرائے گئے ہیں، نوٹیفکیشن میں بتایا گیا ہے کہ ہر سول سرونٹ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے مالی مفادات کو سرکاری ذمہ داریوں سے متصادم ہونے سے بچانے کا پابند ہو گا، جبکہ کسی بھی ممکنہ مفاد کے ٹکراؤ کی صورت میں متعلقہ افسر کو خود کو فیصلے کے عمل سے الگ کرنا ہو گا، قواعد کے تحت تمام سرکاری ملازمین کیلئے اپنے اثاثہ جات کی تفصیلات جمع کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے، جبکہ گریڈ 17 اور اس سے اوپر کے افسران سالانہ بنیادوں پر اپنے اثاثے ڈیجیٹل پورٹل کے ذریعے ظاہر کریں گے، ان اثاثوں کی فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے ذریعے جانچ پڑتال بھی کی جائے گی اور بعض معلومات عوام کیلئے بھی جاری کی جا سکیں گی، کسی بھی سرکاری ملازم یا اس کے اہل خانہ کو ایسے تحائف قبول کرنے سے روک دیا گیا ہے جو سرکاری فرائض پر اثرانداز ہو سکتے ہوں، اسی طرح غیر ملکی اعزازات یا خطابات حاصل کرنے کیلئے وفاقی حکومت سے پیشگی اجازت لینا لازمی قرار دیا گیا ہے، سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق بھی واضح اور سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں، اس کے علاوہ سرکاری ملازمین کو اپنی ملازمت کے دوران حاصل کردہ تجربات پر مبنی ایسی یادداشتیں یا تحریریں شائع کرنے سے بھی روک دیا گیا ہے جن سے خفیہ معلومات کے افشاء ہونے کا خدشہ ہو، اسی طرح دورانِ ملازمت کسی بینک، کمپنی، نجی ٹرسٹ، فاؤنڈیشن یا غیر منافع بخش تنظیم میں کل وقتی یا جز وقتی ملازمت اختیار کرنے پر پابندی عائد کی گئی ہےقواعد میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ کوئی بھی سرکاری ملازم کسی غیر ملکی حکومت کے ساتھ کسی قسم کی ملازمت یا وابستگی اختیار نہیں کرے گا اور نہ ہی اپنی سرکاری حیثیت، اختیار یا اثر و رسوخ کو ذاتی، نجی یا تنظیمی مفادات کے لیے استعمال کر سکے گا، مزید برآں سرکاری ملازمین کیلئے شایانِ شان رویہ، ذمہ دارانہ طرزِ عمل، وقت کی پابندی، پیشہ ورانہ دیانت داری اور عوامی ساکھ کو برقرار رکھنے پر بھی زور دیا گیا ہے، اور یہ معیار ان کے ذاتی اور سرکاری سوشل میڈیا رویے پر بھی لاگو ہو گا، حکومت نے نئے قواعد کے نفاذ کے ساتھ 1964 کے سابقہ کنڈکٹ رولز ختم کر دیے ہیں، تاہم ان کے تحت کیے گئے اقدامات کو برقرار رکھا گیا ہے، ماہرین کے مطابق نئے کنڈکٹ رولز کا مقصد سرکاری نظام میں شفافیت، احتساب اور پیشہ ورانہ معیار کو بہتر بنانا اور عوامی اعتماد کو بحال کرنا ہے۔