کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ کابینہ ، گورننس، معیشت، تعلیم اور عوامی بہبود میں بڑی اصلاحات کی منظوری ۔ متوفی کوٹہ بحال، روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کیلئے 497.574 ملین روپے جاری، 19,200اسکالرشپس کا اعلان۔ منظور کردہ پالیسی فیصلوں میں کسانوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات،لیاری ندی کو ٹی ایم سی لیاری کے دائرہ اختیار میں لانا شامل۔ تفصیلات کے مطابق وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی صدارت میں سندھ کابینہ نے پالیسی فیصلوں کے ایک سلسلے کی منظوری دی جس میں متوفی کوٹہ کی بحالی، وسائل کے اجتماعی استعمال کے ذریعے کسانوں کو بااختیار بنانے کے اقدامات، درآمدی اشیاء کے لئے لیٹرز آف کریڈٹ (LCs) کھولنے اور پراسیس کرنے کے لئے سندھ بینک کو بااختیار بنانا، لیاری ندی کو ٹی ایم سی (TMC) لیاری کے دائرہ اختیار میں لانااور روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لئے 497.574 ملین روپے جاری کرنے سمیت دیگر امور شامل ہیں وزیراعلیٰ ہاؤس میں منعقدہ اجلاس میں صوبائی وزراء، مشیران، معاونین خصوصی، چیف سیکریٹری، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی کابینہ نے ملازمت کی پالیسی، زراعت، تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور مالیاتی گورننس میں بڑی اصلاحات کا جائزہ لیا وزیراعلیٰ نے کابینہ کی مشاورت سے فیصلہ کیا کہ متوفی کوٹہ کے تحت وہ کیسز جن کی درخواستیں ستمبر 2024 سے پہلے جمع کرائی گئی تھیں اور وہ دیگر شرائط پر پورا اترتے ہیں، ان پر میرٹ پر کارروائی کی جائے گی کابینہ نے نوٹ کیا کہ متوفی کوٹہ پالیسی 2002 میں متعارف کرائی گئی تھی۔ مزید مشاہدہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان نے 26.09.2024 کے اپنے فیصلے کے ذریعے متوفی کوٹہ سے متعلق تمام قانونی دستاویزات کو امتیازی اور ماورائے قانون (ultra vires) قرار دیا تھا۔ نتیجتاً، حکومت سندھ نے مذکورہ فیصلے کے پیش نظر متوفی کوٹہ کے کیسز پر کارروائی روک دی تھی۔ تفصیلی غور و خوض کے بعد، کابینہ نے منظوری دی کہ ستمبر 2024 سے پہلے دائر کردہ متوفی کوٹہ کے کیسز پر قانون کے مطابق غور کیا جا سکتا ہے اور متعلقہ محکموں کی جانب سے میرٹ پر کارروائی کی جا سکتی ہےسندھ کابینہ نے ضلع گھوٹکی کی تحصیل اوباوڑو میں گھنڈی کے مقام پر میر کوش ریگولیٹر پر گھوٹکی فیڈر کے بائیں کنارے واقع محکمہ آبپاشی کی 6 ایکڑ اراضی پولیس اسٹیشن (PS) ھمبرا کی نئی عمارت اور ایمرجنسی کیمپ کی تعمیر کے لئے الاٹ کرنے کی منظوری دی۔ پولیس اسٹیشن کھمبرا کی تزویراتی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے، جس کا دائرہ اختیار اہم صنعتی علاقوں، موٹر وے کے حصوں، کچے کے علاقے اور سندھ و پنجاب کے سرحدی پوائنٹس تک پھیلا ہوا ہے، کابینہ نے کھمبرا گاؤں کے اندر واقع موجودہ پولیس اسٹیشن کی عمارت کو پولیس پوسٹ میں تبدیل کرنے کی بھی منظوری دی تاکہ مقامی آبادی کو خدمات کی فراہمی جاری رہے۔ نئی عمارت اور ایمرجنسی کیمپ کی تعمیر کے لئے، کابینہ نے اسکیم کے لئے 70 ملین روپے اور مالی سال 27–2026 کے لئے 55.611 ملین روپے کی منظوری دی، جبکہ کل تخمینہ لاگت 125.611 ملین روپے ہے کابینہ نے محکمہ بلدیات کے تحت روہڑی ریلوے اسٹیشن کی اپ گریڈیشن کے لئے صوبائی حصے کے فنڈز جاری کرنے کی منظوری دی۔ وزیراعلیٰ اور وفاقی وزیر ریلوے کے درمیان ہونے والی ملاقات میں کئے گئے فیصلے کے مطابق، پاکستان ریلوے نے 40:60 لاگت کی شراکت داری کی بنیاد پر ٹینڈرنگ کا عمل شروع کیا۔