اسلام آباد (صالح ظافر) بھارتی فضائیہ کو چار ماہ کے اندر چوتھے بڑے طیارے کے حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے، جس نے سکواڈرن کی گھٹتی ہوئی تعداد، بڑھتے ہوئے آپریشنل دباؤ اور جنگی ہوابازی کے ذخیرے کی جدید سازی میں تاخیر کے درمیان پیدا ہونے والے خطرناک سنگم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ تازہ ترین واقعہ، جس میں ایک انتہائی جدید Su-30MKI طیارہ شامل تھا، لینڈنگ گیئر کی خرابی کے باعث پونے ایئرپورٹ کے رن وے کو بلاک کر گیا۔ اس واقعے نے رن وے کی ایک معمول کی ہنگامی صورتحال کو فوری طور پر بھارت کی کمزور ہوتی ہوئی ’’دو محاذوں پر دفاعی صلاحیت‘‘ سے متعلق ایک وسیع بحث میں تبدیل کر دیا ہے۔ ’’ڈیفنس سیکورٹی ایشیا‘‘ کے مطابق، بھارتی فضائیہ کے پاس منظور شدہ 42 سکواڈرنز کی ضرورت کے مقابلے میں صرف 29 آپریشنل لڑاکا سکواڈرن دستیاب ہیں۔ اس صورتحال میں اب ہر تباہ یا متاثر ہونے والا طیارہ پاکستان اور چین کے خلاف بھارت کے فضائی توازن کے لیے غیر معمولی اسٹریٹجک اہمیت اختیار کر گیا ہے۔