• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

سفرِ حج ہر مسلمان کی دلی آرزو ہوتی ہے اور اِس کے لیے وہ دُعاؤں کے ساتھ، مختلف تیاریاں بھی کرتا رہتا ہے۔ یہ سفر صرف عبادات تک محدود نہیں، بلکہ صبر، برداشت اور جسمانی مشقّت کا بھی امتحان ہوتا ہے۔ یہ سفر کسی صحت مند فرد کے لیے بھی آسان نہیں ہوتا، جب کہ مختلف امراض، بالخصوص ذیابطیس کے مریضوں کے لیے تو اِس لحاظ سے خاصا پُرمشقّت ہے کہ ایک ذرا سی بے احتیاطی اُنھیں بہت سے طبّی مسائل سے دوچار کرسکتی ہے۔ یہی سبب ہے کہ طبّی ماہرین ذیابطیس کے مریضوں کے لیے ایک ایسا لائحۂ عمل ترتیب دیتے ہیں، جس کی روشنی میں وہ بہت سہولت کے ساتھ یہ بابرکت فریضہ سرانجام دے سکتے ہیں۔

مکّہ مکرّمہ اور مدینۃ المنوّرہ کی شدید گرمی، طویل فاصلے تک پیدل چلنا (بعض اوقات روزانہ10 سے 15 کلومیٹر چلنا پڑتا ہے)، نیند میں کمی، غیر معمولی معمولات اور مختلف اقسام کی غذا تک رسائی، جیسے عوامل خون میں شوگر کی سطح کو غیر متوازن کر سکتے ہیں۔ اگر یہ تمام پہلو مدّ ِنظر رکھتے ہوئے مناسب منصوبہ بندی کی جائے، تو مناسکِ حج کی ادائی نہایت سہولت اور اطمینان کے ساتھ کی جا سکتی ہے۔

بین الاقوامی ذیابطیس فیڈریشن (IDF) اور امریکن ذیابطیس ایسوسی ایشن (ADA) کی ہدایات کے مطابق مناسب غذائی منصوبہ بندی، ادویہ کا درست استعمال اور خُود نگرانی (Self-Monitoring) کے ذریعے حج کے دَوران طبّی پیچیدگیوں سے مؤثر طور پر بچا جا سکتا ہے۔

خُود نگرانی، ذیابطیس کے مریضوں کے لیے نہایت اہم ہے۔ اِس میں گلوکومیٹر کے ذریعے باقاعدگی سے خون میں شوگر کی سطح چیک کرنا شامل ہے، خاص طور پر کھانے سے پہلے اور بعد میں، یا پھر طواف اور سعی جیسی جسمانی سرگرمیوں سے قبل اور بعد میں۔ اِس عمل سے نہ صرف شوگر کے اُتار چڑھاؤ کا بروقت اندازہ ہوتا ہے، بلکہ ادویہ کے اثرات بھی بہتر طور پر سمجھے جا سکتے ہیں۔

ہائپوگلائسیمیا(Low Sugar) ایک خطرناک، مگر قابلِ کنٹرول حالت: ہائپوگلائسیمیا اُس حالت کو کہتے ہیں، جب خون میں گلوکوز کی سطح خطرناک حد تک کم ہو جائے، جو دماغ اور جسم کی کارکردگی متاثر کر سکتی ہے۔ اگر بروقت علاج نہ کیا جائے، تو یہ بے ہوشی اور جان لیوا پیچیدگیوں کا بھی باعث بن سکتی ہے۔

طبّی طور پر اگر شوگر کی سطح 70 mg/dL سے کم ہو جائے، تو اسے’’ہائپو گلائسیمیا‘‘ کہا جاتا ہے، جب کہ 54 mg/dL سے کم سطح شدید خطرے کی نشان دہی کرتی ہے۔ حج کے دَوران طویل پیدل سفر، کھانے میں تاخیر اور جسمانی مشقّت کی وجہ سے یہ مسئلہ درپیش ہو سکتا ہے۔ اس کی علامات میں کپکپی، پسینہ، چکر، کم زوری، بھوک اور بے چینی شامل ہیں، جب کہ شدید صُورت میں مریض بے ہوش بھی ہو سکتا ہے۔

ایسی صُورت میں فوری طور پر ADA کے’’ 15-15 ‘‘اصول پر عمل کرنا چاہیے، یعنی مریض کو 15 گرام فوری گلوکوز دیا جائے، جیسے کہ تین کھجوریں یا آدھا کپ جوس اور 15 منٹ بعد دوبارہ شوگر چیک کی جائے۔ اگر بہتری نہ ہو، تو یہی عمل دُہرایا جائے۔آئی ڈی ایف کے مطابق حج سے پہلے مکمل طبّی معائنہ، ادویہ کی ترتیب اور مریض کی hypoglycemia risk کی پہچان ضروری ہے۔

دورانِ حج باقاعدہ مانیٹرنگ، وقت پر کھانا اور ہمیشہ اپنے ساتھ اسنیکس رکھنا اِس سے بچاؤ کے مؤثر طریقے ہیں۔ یہ بھی نہایت اہم ہے کہ مریض کے ساتھ موجود تیماردار علامات اور فوری علاج سے متعلق مکمل آگاہی رکھتا ہو۔ اگر مریض بے ہوش ہو جائے، تو اُسے منہ کے ذریعے کچھ نہ دیا جائے، بلکہ فوری طبّی مدد حاصل کی جائے۔

ہائپرگلائسیمیا (High Sugar) خاموش، مگر سنگین خطرہ: ہائپرگلائسیمیا اُس حالت کو کہتے ہیں، جب خون میں شوگر کی سطح مسلسل نارمل حد سے زیادہ ہو۔ اگر اُس پر بروقت قابو نہ پایا جائے، تو یہ پانی کی کمی، انفیکشن اور شدید پیچیدگیوں، جیسے DKA کا باعث بن سکتی ہے۔

عام طور پر اگر فاسٹنگ شوگر 130 mg/dL سے زیادہ اور کھانے کے بعد 180 mg/dL سے زیادہ ہو، جب کہ 250 mg/dL سے اوپر خطرناک سطح تصوّر کی جاتی ہے، تو فوری توجّہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کی علامات میں زیادہ پیاس لگنا، بار بار پیشاب آنا، تھکن، منہ کا خشک ہونا اور نظر کا دھندلا ہونا شامل ہیں۔آئی ڈی ایف کے مطابق، حج سے پہلے HbA1c کو کنٹرول میں لانا، ڈاکٹر سے ادویہ کا پلان بنوانا اور دورانِ حج باقاعدہ شوگر چیک کرنا نہایت ضروری ہے۔

اس کے ساتھ پانی کا مناسب استعمال، میٹھے سے پرہیز اور ادویہ کا تسلسل اس کے کنٹرول میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر شوگر 250 mg/dL سے زیادہ ہو جائے، تو پانی زیادہ پینا چاہیے اور اگر قے، شدید کم زوری، سانس میں تیزی یا اُلجھن جیسی علامات ظاہر ہوں، تو فوری طبّی مدد حاصل کرنی چاہیے۔

غذائی کنٹرول، ذیابطیس مینجمنٹ کی بنیاد: ایس ڈی ایس سی اے کے اصولوں کے مطابق صحت بخش غذا اور کاربوہائیڈریٹس کی مقدار پر کنٹرول ذیابطیس کے انتظام کا بنیادی ستون ہے۔ پاکستانی غذائی عادات میں بریانی، پلاؤ اور سفید نان عام ہیں اور حج کے دوران بھی اکثر یہی غذائیں دست یاب ہوتی ہیں۔ چوں کہ سفید چاول اور میدہ خون میں شوگر کو تیزی سے بڑھاتے ہیں، اِس لیے ان کا استعمال محدود رکھنا چاہیے۔

اگر چاول کھانا ہوں، تو ان کی مقدار ایک مُٹھی کے برابر رکھیں اور ساتھ دال، چنے یا پروٹین ضرور شامل کریں تاکہ شوگر آہستہ بڑھے۔ سلاد جیسے کھیرا، ٹماٹر، پتّے والی سبزیاں، یعنی پودینا، ہرا دھنیا، سلاد پتا، ہری پیاز اور اس کے پتّے اور گاجر، مولی کو اپنی پلیٹ کا لازمی حصّہ بنانا چاہیے، کیوں کہ فائبر، شوگر کو کنٹرول کرنے کے ساتھ، دیر تک پیٹ بَھرنے میں مدد دیتا ہے۔

پانی، چائے اور گرمی کا اثر: سعودی عرب کی شدید گرمی میں جسم سے پانی تیزی سے خارج ہوتا ہے، جو شوگر کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ اِس لیے روزانہ کم از کم 2.5 سے3 لیٹر پانی پینا (10 سے 12 گلاس) ضروری ہے۔ آبِ زم زم بہترین انتخاب ہے، مگر اس میں کسی قسم کی چینی یا شربت شامل نہ کیا جائے۔ چائے اور کافی جیسی کیفین والی اشیاء پانی کی کمی بڑھا سکتی ہیں، اِس لیے ان کا استعمال محدود رکھیں۔ اگر چائے پینی ہو، تو بغیر چینی کے لیں اور اس کے ساتھ اضافی پانی ضرور پیئں۔

تلی، بھاری غذاؤں سے پرہیز: حرم کے اردگرد سموسے، پکوڑے، جلیبی اور فاسٹ فوڈز آسانی سے دست یاب ہوتے ہیں، لیکن یہ نہ صرف شوگر کو غیر متوازن کرتے ہیں، بلکہ جسمانی تھکن اور معدے پر بوجھ بھی بڑھاتے ہیں۔ اس کے برعکس تازہ پھل، ہلکی دالیں اور گرلڈ چکن بہتر انتخاب ہیں۔

روزمرّہ خوراک کا متوازن منصوبہ: ناشتے میں دلیا یا چکّی کے آٹے کی روٹی کے ساتھ انڈا یا دہی لیا جا سکتا ہے۔ دوپہر کے کھانے میں ایک سے دو روٹیاں، دال یا چکن اور سلاد شامل ہونا چاہیے۔ شام کے وقت بُھنے چنے، بادام یا کوئی پھل بہتر انتخاب ہے۔ رات کا کھانا ہلکا رکھا جائے، جیسے دال، سبزی یا دہی کے ساتھ ایک روٹی۔ سونے سے پہلے دودھ یا ہلکا اسنیک لینا ضروری ہے تاکہ رات کے وقت شوگر کم نہ ہو۔

روزانہ مانیٹرنگ اور پاؤں کی حفاظت: شوگر کو دن میں تین سے چار بار چیک کرنا چاہیے، خاص طور پر طواف یا زیادہ چلنے سے پہلے اور بعد میں۔ ذیابطیس کے مریضوں کے لیے پاؤں کی حفاظت نہایت اہم ہے۔ ہمیشہ آرام دہ اور بند جوتے پہنیں، ننگے پاؤں چلنے سے گریز کریں اور روزانہ رات کو پاؤں کا معائنہ کریں۔

اپنی شناخت اور ایمرجینسی تیاری: ہر مریض اپنے پاس ایک شناختی کارڈ رکھے، جس پر واضح لکھا ہو’’مجھے ذیابطیس ہے‘‘ (I have diabetes)اس کے علاوہ مکمل Diabetes Kit Bag بھی ساتھ ہونا چاہیے، جس میں قومی شناختی کارڈ، میڈیکل رپورٹ، گلوکومیٹر، اسٹرپس، لانسٹس، انسولین، ادویہ، گلوکوز ٹیبلٹس، کھجوریں، چاکلیٹ، جوس اور پانی شامل ہوں۔

حج ایک روحانی عبادت ہے، لیکن اس کی کام یاب ادائی کے لیے جسمانی صحت بنیادی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر غذا متوازن ہو، پانی مناسب مقدار میں لیا جائے، شوگر کی باقاعدہ نگرانی کی جائے اور ہنگامی تیاری مکمل ہو، تو ذیابطیس کے مریض بھی اِس مقدّس سفر کو محفوظ اور باآسانی مکمل کر سکتے ہیں۔ یاد رکھیں، احتیاط صرف علاج نہیں، بلکہ حفاظت ہے۔

(مضمون نگار، ماہرِ غذائیت، سرٹیفائیڈ ذیابطیس ایجوکیٹر، پی سی ڈی اے کے شعبۂ غذا اور تعلیم کی سربراہ ہیں)

سنڈے میگزین سے مزید
صحت سے مزید