تہران /واشنگٹن (اے ایف پی /نیوزڈیسک ) امریکا اور ایران کے مابین جنگ بندی منگل اور بدھ کی درمیانی شب ختم ہورہی ہے‘ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی کی ضدپر قائم ‘ایران بھی اپنے مؤقف پر ڈٹ گیا جبکہ پاکستان مذاکرات کےد وسرے دورکیلئے پرامید ہے ۔صدرٹرمپ نے ایک بار پھر تہران کو دھمکی دیتے ہوئے کہاہے کہ اگرمعاہدہ نہ ہواتوجنگ بندی میں توسیع مشکل ہے ‘ ڈیل ہونے تک ہرمز کی ناکہ بندی جاری رہے گی ‘وقت ختم ہورہا ہے ‘ سیزفائرختم ہواتو بم پھٹنا شروع ہوجائیں گے‘انہوں نے ڈیموکریٹس کو شدیدتنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ سارے غدارایران کے خطرے اور اس کیخلاف کارروائی کی باتیں کرتے رہے ہیں مگراب جب عملی اقدامات ہورہے ہیں تو تنقید کررہے ہیں‘ امریکی میڈیا بھی ایران کی جیت کا خواہشمند ہے لیکن ایسا نہیں ہوگا۔دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ ایرانی کبھی طاقت کے آگے سر نہیں جھکائیں گےجبکہ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ تہران کا واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور کا فی الحال کوئی ارادہ ہے نہ ہی فیصلہ کیاگیاہے‘ چین نے امریکا کی جانب ایرانی جہاز تحویل میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے ۔چین کے صدرشی جن پنگ نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے فون پر گفتگو میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کا کھلا رہنا عالمی برادری کے مشترکہ مفاد میںہے‘فرانسیسی صدر ایمانوئل میخواں نے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کودونوں فریقین کی غلطی قراردیدیا جبکہ روس نے امریکا اور ایران سے جنگ بندی برقراراور مذاکرات جاری رکھنے کا مطالبہ کیاہے‘ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اپنے روسی ہم منصب کو بتایا کہ ایران امریکی رویے کی نگرانی کرے گا اور اپنے مفادات اور قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے مناسب فیصلہ کرے گاجبکہ پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے مذاکرات میں حصہ نہ لینے کے فیصلے میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہےکیوں کہ بحری ناکہ بندی مذاکرات میں ایک رکاوٹ ہے‘ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور اعلیٰ مذاکرات محمد باقر قالیباف نے بھی ٹرمپ کو جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ تہران دھمکیوں کے سائے میں امریکا کے ساتھ مذاکرات قبول نہیں کرتا۔سوشل میڈیا پر اپنی پوسٹ میں ان کا کہناتھاکہ ٹرمپ مذاکرات کی میز کو ہتھیارڈالنے کی میزمیں بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔علاوہ ازیں ایک سینئر ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے تاہم ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہےجبکہ ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار نے برطانوی خبرایجنسی کو بتایاہے کہ پاکستان کو مکمل اعتماد ہے کہ وہ ایران کو امریکا کے ساتھ مذاکرات میں شرکت کے لیے راضی کر لے گا۔نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر مذکورہ ذریعے نے بتایاکہ ہمیں تہران کی جانب سے مثبت اشارہ ملا ہے۔ حالات ابھی بدل رہے ہیں ‘صورتحال میں لچک موجود ہے ‘ہماری کوشش ہے کہ جب ہم آج یا کل مذاکرات کا آغاز کریں تو وہ یہاں موجود ہوں۔ذریعے نے مزید بتایا کہ پاکستان اس وقت تہران اور واشنگٹن دونوں کے ساتھ رابطے میں ہے کیونکہ جنگ بندی کی ڈیڈ لائن قریب آ رہی ہے۔ تفصیلات کے مطابق صدرٹرمپ نے تہران کے ساتھ بات چیت کے حوالے سے شکوک و شبہات دور کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے مذاکرات ہونے جا رہے ہیں‘ کوئی بھی کھیل نہیں کھیل رہا ہے‘ اگر ایران کی نئی قیادت عقل مندی دکھائے توان کا مستقبل خوشحال اور عظیم ہو سکتا ہے‘اسرائیل نے مجھے جنگ کے لیے آمادہ نہیں کیا‘اگرمذاکرات میں کوئی پیش رفت ہوتی ہے تومیں خود ایرانی قیادت سے ملنے کوتیار ہوں‘ معاہدہ نسبتاً جلدی طے پا جائے گا‘میں کسی دباؤمیں ڈیل نہیں کررہا ۔ٹرمپ نے ڈیموکریٹس پرشدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے یہ سارے غدارایران کے خطرے اور اس کیخلاف کارروائی کی باتیں کرتے رہے ہیں مگراب جب عملی اقدامات ہورہے ہیں تو تنقید کررہے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ ہم آخرکار 47 سال بعد اس گڑبڑ کو درست کریں جو پچھلے صدور نے ہونے دی، یموکریٹس ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ ایران کے حوالے سے ہماری جو بہت مضبوط پوزیشن ہے، اسے نقصان پہنچایا جائے۔امریکی صدر نے بعض امریکی میڈیا اداروں جیسے واشنگٹن پوسٹ، نیویارک ٹائمز اور وال اسٹریٹ جرنل پر بھی تنقید کی اور انہیں “فیک نیوز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے ان کے مطابق جنگ اور صورتحال کو غلط انداز میں پیش کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ کی فوجی کارروائیاں ’’کامیاب‘‘ رہی ہیں اور دشمن کمزور ہو چکا ہے۔ ٹرمپ نے کہا کہ بعض میڈیا ادارے ایران کے حق میں جھکاؤ رکھتے ہیں، لیکن ان کے مطابق زمینی حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ’’غالب‘‘ ہے اور نتائج ان کی پالیسی کے مطابق ہی نکلیں گے۔ دوسری جانب ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے شکوہ کیاہے کہ امریکی حکام کی جانب سے متضاد بیانات ایک تلخ پیغام دے رہے ہیں‘ امریکی وعدہ خلافی کے حوالے سے ایران میں پایا جانے والا گہرا تاریخی عدم اعتماد اب بھی برقرار ہے۔ جنگ کوبا وقار طریقے سے ختم کرنے کی کوشش کریں گے‘علاوہ ازیں ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے انکشاف کیا ہے کہ فیلڈمارشل عاصم منیر نے صدرٹرمپ سے فون پر بات کی ہے اور انہیں آگاہ کیا ہے کہ ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ مذاکرات کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔برطانوی خبررساں ایجنسی کے مطابق ٹرمپ نے جواب دیا کہ وہ اس مشورے پر غور کریں گے ۔دوسری جانب امریکی صحافی جولیا مانچسٹر نےسوشل میڈیا پوسٹ میں دعویٰ کیاہے کہ انہوں نے جب صدر ٹرمپ سے ان رپورٹوں کے بارے میں پوچھا کہ کیا وہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کے مشورے پر غور کریں گے، تو ٹرمپ نے انہیں بتایا کہ فیلڈ مارشل نے ناکہ بندی کے حوالے سے کسی بھی قسم کی کوئی سفارش نہیں کی۔ادھرایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہاہےکہ افزودہ یورینیم کے ذخائر کی منتقلی ایران کے ایجنڈے کا حصہ نہیں۔امریکا نے جارحانہ عمل اور سیز فائر کی خلاف ورزی سے واضح کر دیا ہے کہ وہ سفارتی عمل کو آگے بڑھانے کے لیے سنجیدہ نہیں ہے‘ایرانی کارگو جہاز پر امریکی حملہ‘ بحری ناکہ بندی اور لبنان میں جنگ بندی کے نفاذ میں تاخیر، یہ سب جنگ بندی کی واضح خلاف ورزیاں ہیں‘انہوں نے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں پاکستان واحد باقاعدہ ثالث ہے۔ ایران کے نائب صدر محمد رضا عارف نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کی سکیورٹی مفت نہیں ہےجبکہ ایران کی فوج نے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ ایرانی پرچم بردار کارگو جہاز پر فائرنگ کا جواب دے گی۔ایرانی فوج کے مرکزی کمانڈ سینٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان نےخبردارکرتے ہوئے کہاکہ مسلح افواج جلد ہی اس مسلح قزاقی اور امریکی فوج کے خلاف جواب اور جوابی کارروائی کریں گی جبکہ امریکی میڈیا نے ذرائع کے حوالے سے بتایاکہ نائب صدرجے ڈی وینس منگل کو پاکستان کیلئے روانہ ہوں گے‘ دریں اثناء سوشل میڈیا پر جاری بیان میں ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی اس وقت تک ختم نہیں کرے گا جب تک تہران امن معاہدے پر راضی نہیں ہو جاتا۔بحری ناکہ بندی ایران کو مکمل طور پر تباہ کر رہی ہے‘انہیں روزانہ 50کروڑڈالر نقصان ہو رہا ہے جو کہ قلیل مدت کے لیے بھی ایک ناقابلِ برداشت ہے۔ایک اور بیان میں امریکی صدرکا کہناتھاکہ ایران کے خلاف جنگ کیلئے اسرائیل نے انہیں راغب نہیں کیا‘7اکتوبر کے واقعے نے ان کے دیرینہ موقف کو تقویت بخشی کہ ایران کے پاس کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ ان کا مزیدکہناتھاکہ نائب صدر جے ڈی وینس اور امریکی وفدمذاکرات کے لیے پاکستان پہنچنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ گزشتہ روز پی بی ایس نیوزکو انٹرویومیں صدرٹرمپ نے بتایاکہ اگر ایران کے ساتھ جنگ بندی منگل کو ختم ہو جاتی ہے تو پھر بم پھٹنا شروع ہو جائیں گے۔مذاکرات میں ایران کی شرکت پر ان کا کہناتھاکہ مجھے اس بارے میں نہیں معلوم مگرا نہیں وہاں ہونا چاہیے‘ ہم نے وہاں ہونے پر اتفاق کیا تھا‘ اگر وہ نہیں آتے تو وہ بھی ٹھیک ہے‘ہم صرف یہی چاہتے ہیں کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہ ہوں‘میں نے اپنی بہترین ٹیم بھیجی ہے‘جیرڈکشنر ایک بہترین مذاکرات کار ہے اوراب وہ سعودی عرب کے ساتھ کاروباری معاملات میں شامل نہیں ‘امریکی صدر نے بلوم برگ کو بھی انٹرویو دیاجس میں ان کاکہناتھاکہ میں جلد بازی میں کوئی برامعاہدہ نہیں کروں گا‘ ہمارے پاس بہت وقت ہے۔اگرمعاہدہ نہ ہواتو پھر لڑائی کے فوری آغاز کی توقع ہے ۔