کراچی(رفیق مانگٹ)ماہرینِ معاشیات نے خبردار کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکا میں مہنگائی کی جو لہر اٹھی ہے، وہ جنگ کے خاتمے کے بعد بھی طویل عرصے تک برقرار رہے گی، جس سے نومبر کے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی عوام پر مزید دباؤ پڑے گا۔جنگ ختم ہونے کے بعد بھی امریکا میں مہنگائی جلد کم نہیں ہوگی،تیل 70 سے 110 ڈالر تک، ایندھن مہنگا، مہنگائی کی نئی لہر شدت اختیار کر گئی،ایران جنگ کے معاشی اثرات نے امریکی معیشت کو ایک نئے دباؤ میں دھکیل دیا،ایئرلائنز ٹکٹ مہنگے ،نائٹروجن کھاد کی قیمتوں میں 30 فیصد اضافہ ہوا،ایم ڈی آئی ایم ایف کرسٹینا جارجیوا نے کہا کہ امریکا میں کم مدت کی مہنگائی کے خطرات بڑھے ہیں اور اگر جنگ کل بھی ختم ہو جائے تو دنیا بھر میں اس کے اثرات ایک رات میں ختم نہیں ہونگے اور مہنگائی بھی فوری ختم نہیں ہوگی۔برطانوی اخبار کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد سے دنیا کی سب سے بڑی معیشت شدید معاشی دباؤ کا شکار ہے، اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کے مہنگائی پر اثرات ختم ہونے میں وقت لگے گا۔ آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے کہاہم مہنگائی میں کمی کی ایک بہتر سمت میں جا رہے تھے، لیکن اب اس میں کچھ حد تک الٹا ہو گیا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں کہ امریکا میں قلیل مدتی مہنگائی کی توقعات بڑھ گئی ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ جنگ کے اثرات اگر کل جنگ ختم بھی ہو جائے تو راتوں رات ختم نہیں ہوں گے۔