• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری، آئی ایم ایف کی نیب آرڈیننس میں ترمیم سمیت 11 نئی شرائط

اسلام آباد ( مہتاب حیدر) پاکستان کے لیے 1.2 ارب ڈالر کی اگلی قسط کی منظوری کے لیے (آئی ایم ایف) نے 11نئی شرائط عائد کر دی ہیں، جن کے تحت اسلام آباد کو پیپرا (پی پی آر اے) کے قواعد میں ترمیم کرنا ہوگی تاکہ سرکاری اداروں (SOEs) کو اربوں روپے کے ٹھیکے بغیر مقابلے کے دینے میں حاصل ترجیح ختم کی جا سکے۔حکومت نے آئی ایم ایف سے اس بات پر بھی اتفاق کیا ہے کہ جولائی 2026 سے گیس کے نرخوں میں ہر چھ ماہ بعد اور جنوری 2027سے بجلی کے نرخوں میں سالانہ بنیادوں پر ردوبدل کیا جائے گا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مالی سال 2026-27 میں بجلی اور گیس دونوں کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہوگا۔نئے اسٹرکچرل بینچ مارک کے تحت حکومت نے خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) اور اسپیشل ٹیکنالوجی زونز (STZs) سے متعلق قوانین میں ترمیم پر بھی اتفاق کیا ہے، جس کے تحت مالی مراعات کو مرحلہ وار ختم کیا جائے گا۔اس کے علاوہ نیب آرڈیننس میں ترمیم ہوگی اور ایف بی آر میں آڈٹ کیسز کے انتخاب کا مرکزی نظام لایاجائیگا، یہ اقدامات فنانس بل 2026 کے مطابق ہوں گے اور منافع پر مبنی سہولیات کو لاگت پر مبنی نظام میں تبدیل کیا جائے گا، جبکہ تمام مراعات 2035 تک ختم کر دی جائیں گی۔سی پیک کے تحت دی جانے والی تمام مالی مراعات بھی 2035 تک ختم کر دی جائیں گی۔پی پی آر اے قوانین میں ترمیم ستمبر 2026 تک آئندہ بجٹ کی منظوری کے بعد کی جائے گی۔ آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ اگلے ماہ 7 ارب ڈالر کے Extended Fund Facility (ای ایف ایف) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل اور چوتھی قسط کے اجرا کی منظوری پر غور کرے گا۔

اہم خبریں سے مزید