کراچی (رفیق مانگٹ) واشنگٹن میں ایک اہم سفارتی ملاقات اس وقت غیر معمولی رخ اختیار کر گئی جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جاپانی وزیراعظم سانائے تکاچی کے سامنے پرل ہاربر حملے کا حوالہ دے کر حیران کن بیان دیا۔ امریکی صدر کی جانب سے سفارتی آداب کی خلاف ورزی ، ٹرمپ کسی کا لحاظ نہیں رکھتے۔وہ اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملے سے قبل جاپان اور دیگر اتحادیوں کو پیشگی اطلاع کیوں نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا"ہم نے کسی کو نہیں بتایا کیونکہ ہم سرپرائز چاہتے تھے۔ سرپرائز کے بارے میں جاپان سے بہتر کون جانتا ہے؟ ٹھیک ہے؟ آپ نے مجھے پرل ہاربر کے بارے میں کیوں نہیں بتایا؟ ٹھیک ہے؟ ہے نا؟"کمرے میں موجود حکام اور صحافیوں نے قہقہہ بھی لگایا۔یہ بیان ٹرمپ کے اس رجحان کی تازہ مثال ہے جس میں وہ سفارتی روایات کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ماہرین کے مطابق، یہ بیان نہ صرف سفارتی آداب کے خلاف تھا بلکہ اس نے ماضی کے حساس تاریخی واقعے کو ایک نازک موقع پر چھیڑ کر امریکا-جاپان تعلقات کے روایتی توازن کو بھی متاثر کیا۔جمعرات کو اوول آفس میں جاپان کی وزیرِاعظم سانائے تکاچی کے ساتھ ایک خوشگوار ملاقات کے دوران، ٹرمپ نے 7 دسمبر 1941 کے جاپانی حملے کا حوالہ دیا، جس نے امریکا کو دوسری جنگِ عظیم میں دھکیل دیاتھا۔ انہوں نے مزید کہا"میرا خیال ہے آپ ہم سے کہیں زیادہ سرپرائز پر یقین رکھتے ہیں۔