کراچی( ثاقب صغیر)پاکستان اسٹیل ملز میں اربوں کی منظم چوری کا اسکینڈل بے نقاب ہو گیا۔ وزارت صنعت و پیداوار کی جانب سے موصول ہونے والی شکایت پر ایف آئی اے نے فوری انکوائری کا آغاز کیا اور ابتدائی تحقیقات میں اہم شواہد حاصل کر لئے،تحقیقات کے دوران انکشاف ہوا کہ اسٹیل ملز سے قیمتی مشینری، کیبلز، اسکریپ مواد اور دیگر اہم انفرااسٹرکچر کو بغیر کسی گیٹ پاس کے مسلسل باہر نکالا جاتا رہا تھا جو سکیورٹی اور ڈی ایس ایف اہلکاروں کی غفلت یا ممکنہ ملی بھگت کی واضح نشاندہی کرتا ہے،مزید برآں 36 ٹن سرکاری مٹیریل سے لدے 22 وھیلر ٹریلر کی برآمدگی نے اس منظم نیٹ ورک کی وسعت کو بے نقاب کر دیا۔ شواہد کے مطابق یہ کارروائیاں ایک مربوط گروہ کے ذریعے کی جا رہی تھیں جس میں اندرونی ملازمین، سکیورٹی اسٹاف اور اسکریپ ڈیلرز کے مابین گٹھ جوڑ شامل تھا،ابتدائی اطلاعات کے مطابق معاملے سے متعلق ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود اسے فوری طور پر C کلاس میں تبدیل کر دیا گیا جس سے کیس کو دبانے کی کوشش کا پہلو بھی سامنے آیا، ایف آئی اے نے اس پہلو کو بھی تحقیقات میں شامل کر لیا ہے۔ایف آئی اے نے اس کیس میں ملوث عناصر کے خلاف گھیرا تنگ کر دیا ہے جبکہ مرکزی کرداروں اور سہولت کاروں کی نشاندہی کر لی گئی ہے۔