کراچی(محمد منصف) کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے زیر انتظام چلنے والے تمام واٹر ہائیڈرنٹس کے ٹھیکے 15 سال سے من پسند شخصیات کو دینے کا انکشاف ہوا ہے اور ہائیڈرنٹس آخری بار ہونے والے معاہدوں کی مدت بھی ختم ہوئے ایک سال ہو گئی لیکن نیلامی کے بغیر من پسند افراد ہی ہائیڈرنٹس تاحال چلا رہے ہیں، قومی خزانے کے اربوں روپے داؤ پر لگ گئے، سندھ ہائی کورٹ نے واٹر کارپوریشن کے جواب کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے چیف ایگزیکٹو واٹر کارپوریشن کو طلب کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق سندھ ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عدنان الکریم میمن نے اپنی آبزرویشن میں کہا کہ یہ انتہائی اہم معاملہ ہے کہ درخواست گزار کے مطابق واٹر بورڈ و دیگر مدعا علیہان نے کراچی میں قائم واٹر ہائیڈرنٹس کی کافی عرصہ سے کھلی نیلامی نہیں ہوئی لہذا ان حالات میں کورٹ آئندہ سماعت پر متعلقہ فریقین سے تمام پہلوؤں کا جائزہ لے گی۔ واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے وکیل نے موقف اختیار کیا کہ ٹینڈر کے معاملات کراچی واٹر اینڈ کارپوریشن کے بورڈ کو دوبارہ بھیج دئیے ہیں اور اس حوالے بہت جلد ہی اجلاس متوقع ہے جس میں بورڈ اپنا فیصلہ جاری کرے گا اور عدالت سے مہلت طلب کرتے ہوئے کہا کہ فیصلہ ہونے تک موقع دیا جائے۔ آئندہ سماعت 23اپریل کو ہوگی۔ درخواست گزار ایس ایس ایس کارپوریشن نے اپنے شراکت دار جواد احمد کے توسط سے سیکریٹری بلدیات، چیف ایگزیکٹو کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن ، ایم ایس طارق اینڈ برادرز ، غلام نبی واٹر کنٹریکٹر، ایچ ٹو او انٹر پرائزز، قاسم اینڈ برادرز ،شاہ محمد جے وی شاہ بلڈرز اور قاضی اینڈ کو جے وی والازن اینڈ کارپوریشن کو فریق بناتے موقف اختیار کیا کہ کراچی میں حکومت کے زیر انتظام چلنے والے واٹر ہائیڈرنٹس کی نیلامی میں گزشتہ 15 سالوں سے بے ضابطگیاں، بدعنوانی ، مخصوص اور من پسند ٹھیکیداروں کو غیر قانونی طور پر ٹھیکے دیئے جا رہے ہیں ، درخواست گزار نے مزید کہا کہ پچھلے ایک عرصہ سے نیپا ہائیڈرنٹ غلام نبی واٹر کنٹریکٹر کو ٹھیکہ دیا جا رہا ہے، صفورا ہائیڈرنٹ طویل عرصہ سے ایچ ٹو او انٹرپرائزز کے پاس ہی ہے، سخی حسن ہائیڈرنٹ قاسم اینڈ برادرز کو ہی نوازا ہوا ہے جبکہ لانڈھی فیوچر کالونی ہائیڈرنٹ گزشتہ 15 سال سے ہی ایم ایس طارق اینڈ برادرز نے سنبھال رکھا ہے۔ گزشتہ 15 سالوں سے انہی ٹھیکیداروں کو ہائیڈرنٹس کے ٹھیکوں سے نوازا جا رہا ہے۔ ان تمام ہائیڈرنٹس کی آخری بار نیلامی 2023 میں 2 سال کے لئے ہوئی تھی جس کی میعاد مئی 2025 میں ختم ہوگئی تاہم مذکورہ ٹھیکیدار میعاد ختم ہونے کے باوجود غیر قانونی طور پر اب بھی ہائیڈرنٹس چلا رہے ہیں اور اربوں روپے کا قومی خزانے کو نقصان پہنچ رہا ہے۔