کراچی (سید محمد عسکری)حکومت سندھ نے امتحانی عمل میں سنگین بے ضابطگیوں، نقل اور مبینہ کرپشن کے انکشاف پر بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن کراچی کے تین افسران کو معطل جبکہ ایک سینئر افسر کو شوکاز نوٹس جاری کردیا ہے۔ُجامعات و بورڈز ڈپارٹمنٹ کی جانب سے 21اپریل کو جاری نوٹیفکیشن کے مطابق یہ کارروائی امتحانی مراکز کے قیام اور ان میں تبدیلی سمیت مختلف بے ضابطگیوں سے متعلق متعدد شکایات اور مصدقہ میڈیا رپورٹس پر کی گئی۔ صوبائی وزیر جامعات و بورڈز نے کراچی کے مختلف امتحانی مراکز کا اچانک دورہ کیا جہاں نقل، بدعنوانی اور قواعد کی خلاف ورزیوں کے متعدد واقعات سامنے آئے جنہیں ریکارڈ کیا گیا۔نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ اقدامات بادی النظر میں سنگین بدعنوانی، غفلت اور قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں، جس پر فوری محکمانہ کارروائی ضروری ہے۔معطل کئے جانے والے افسران میں اسسٹنٹ کنٹرولر امتحانات شیخ محمد طارق کریم، ریسرچ ایسوسی ایٹ محبوب احمد جعفری اور ڈیٹا انٹری آپریٹر سید علی حیدر کاظمی شامل ہیں، جنہیں ابتدائی طور پر تین ماہ کے لئے معطل کیا گیا ہے۔ معطلی کے دوران ان کا ہیڈکوارٹر جامعات و بورڈز ڈپارٹمنٹ ہوگا اور انہیں قواعد کے مطابق تنخواہ و مراعات ملتی رہیں گی۔دریں اثنا، ڈپٹی کنٹرولر امتحانات عمران طارق کو شوکاز نوٹس جاری کیا گیا ہے، جو پہلے ہی معطل ہیں۔ نوٹس میں ان پر امتحانی بے ضابطگیوں، بدعنوانی اور کرپشن میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔نوٹس کے مطابق مذکورہ افسر اس سے قبل بھی 2023-24 کے سالانہ امتحانات میں جعلسازی اور کرپشن کے الزامات پر معطل ہوچکے ہیں، جس کی تحقیقات اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ میں جاری ہیں۔شوکاز نوٹس میں انہیں ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 14 روز کے اندر تحریری جواب جمع کرائیں کہ ان کے خلاف ملازمت سے برطرفی سمیت بڑی سزا کیوں نہ دی جائے۔ انہیں ذاتی سماعت کا بھی حق دیا گیا ہے جبکہ مقررہ مدت میں جواب نہ دینے کی صورت میں فیصلہ یکطرفہ طور پر دستیاب ریکارڈ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔