پشاور(نیوزرپورٹر) پشاور ہائیکورٹ نے پی ڈی اے کی جانب سے حیات آباد میں نجی فائیوسٹار ہوٹل کی تعمیر کے لئے 30 کنال زمین کی لیز منسوخ کرنے کا اقدام کالعدم قرار دے دیا ۔رٹ کی سماعت پشاور ہائیکورٹ کے جسٹس اعجاز انور اور جسٹس انعام اللہ پر مشتمل دو رکنی بنچ نے کی۔نجی گروپ کے وکیل عمران خان سکندری ایڈووکیٹ عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کوبتایا کہ پی ڈی اے نے فائیو سٹار ہوٹل کی تعمیر کرنے کے لئے حیات آباد میں 30 کنال کی زمین دی جس پر ہوٹل کی عمارت تعمیر ہوئی اور اس تعمیر پر مذکورہ گروپ کےاربوں روپے کی لاگت آ ئی ہے اب پی ڈی اے نے منسوخی کا اعلامیہ جاری کیا ہے جس میں 30 کنال زمین دینے کا حکم نامہ واپس لیا گیا ہے۔ انہوں نے عدالت کوتبایا کہ صوبائی حکومت کا یہ اقدام غیرقانونی اور متعلقہ قوانین کے خلاف ہے اگر ایک دفعہ زمین دی جائے تو حکومت اپنے فیصلہ واپس نہیں لے سکتی کیونکہ درخواست گزار نے وہاں پر ابوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے اور گرے سٹرکچر مکمل ہو گیا ہے۔عمران سکندری ایڈووکیٹ نے نےبتایا کہ ایسے کسی قسم کی منسوخی ماوراء آئین ہے اور مختلف قوانین بھی درخواست گزار کو تفظ دیتی ہے۔دوسری جانب سرکاری وکیل کا موقف تھا کہ وزیر اعلیٰ بحیثیت چیئرمین پی ڈی اے بورڈ ایسے فیصلے کرنے کا مکمل اختیار رکھتے ہیں، لہٰذا یہ پٹیشن قابلِ سماعت نہیں۔انہوں نے عدالت کوبتایا کہ پلاٹ کی منسوخی کا فیصلہ قانونی ہے۔وکیل درخواست گزار کے مطابق اس قسم کے اقدامات سے سرمایہ کاروں کی حوصلہ شکنی ہوگی اسکے علاوہ یہ وعدے سے انحراف کے خلاف قانونی اصول کی صریح خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ڈی اے اور صوبائی حکومت خود تحریری طور پر تعمیرات کی مدت میں 31دسمبر 2026تک توسیع دینے پر راضی ہوئے تھے۔ یہ اقدام جنرل کلازز ایکٹ کی دفعہ 24 اور 26 کے طریقہ کار کے منافی ہے اور آئین کے آرٹیکل 10اے کے تحت فیئر ٹرائل (منصفانہ سماعت) کے حق کی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ ہوٹل کا گرے اسٹرکچر مکمل ہو چکا ہے اور یہ صوبے کے لیے ایک اہم ترین منصوبہ ہے۔ عدالت نے دلائل مکمل ہونے پر پی ڈی اے کا اعلامیہ اور اس کے تحت اقدام کو کالعدم قرار دے دیا اور درخواست گزار کی الاٹ منٹ بحال رکھی۔