اسلام آباد(مہتاب حیدر)وزارتِ خزانہ کی جانب سے تقریباً ایک کھرب روپے سرکاری اداروں کے ذریعے کمرشل بینکوں کے کھاتوں میں رکھنے کے اعتراف کے بعد پاکستان نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ 70 نئے سرکاری اداروں کے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، کو ٹریژری سنگل اکاؤنٹ (TSA) کے دائرے میں لے آئیگا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف TSA سے باہر رکھے گئے فنڈز پر نظر رکھے ہوئے ہے اور حکام پر زور دے رہا ہے کہ وہ سرکاری رقوم کو حکومتی نظام سے باہر رکھنے کی پرانی روایت ترک کریں۔ دوسری جانب ارکانِ پارلیمنٹ 2019 میں منظور ہونے والے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ پر عملدرآمد نہ ہونے پر شدید برہمی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اعلیٰ سرکاری ذرائع نے جمعہ کو اس بات کی تصدیق کی کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ سرکاری اداروں کی نقد رقوم کو یکجا کرنے کے عمل کو جاری رکھے گا۔ حالیہ پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والی سینیٹر انوشہ رحمان نے پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 میں سرکاری ملکیتی اداروں (SOEs) کی تعریف نہ ہونے کا مسئلہ اٹھایا۔ جب وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام سے سینیٹرز نے سخت سوالات کیے تو ایڈیشنل سیکریٹری (بجٹ) نے تسلیم کیا کہ سرکاری اداروں نے ایک کھرب روپے کمرشل بینکوں میں جمع کروا رکھے ہیں، بجائے اسکے کہ انہیں TSA میں منتقل کیا جاتا۔دوسری جانب وزارتِ خزانہ نے تحریری طور پر آئی ایم ایف کو بتایا ہے کہ پاکستان بہتر مالیاتی نظم و ضبط کیلئے فنڈز کو یکجا کرنے کی سمت میں آگے بڑھے گا۔ تسلسل کیلئے حکومت سیکٹرائزیشن اسٹڈی نہیں کریگی بلکہ قانونی معیار اپنائے گی تاکہ ان اداروں کی نشاندہی کی جا سکے جنہیں TSA کے قواعد پر عمل کرنا ہوگا۔ اس وقت 70 نئے اکاؤنٹس، جن میں اوسطاً 290 ارب روپے موجود ہیں، TSA میں شامل کیے جائیں گے، جبکہ پہلے ہی 242 اکاؤنٹس میں 200 ارب روپے شامل ہیں۔