• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

5 دہائیوں بعد پاکستان، بنگلہ دیش کے اعلیٰ بیوروکریٹک روابط بحال

لاہور (آصف محمود بٹ) پانچ دہائیوں بعد پاکستان، بنگلہ دیش کے اعلیٰ بیوروکریٹک روابط بحال۔ بنگلہ دیش کے 20 سینئر افسران مئی میں لاہور میں تربیتی پروگرام میں شریک ہوں گے۔ ادارہ جاتی تعاون، گورننس اصلاحات اور معاشی نظم و نسق پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان پانچ دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد اعلیٰ سطحی بیوروکریٹک روابط کی بحالی کی ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے تحت بنگلہ دیش کے سینئر سول سرونٹس کا ایک وفد مئی کے پہلے ہفتے میں لاہور پہنچے گا تاکہ پاکستان سول سروسز اکیڈمی میں منعقد ہونے والے اعلیٰ پیشہ ورانہ تربیتی پروگرام میں شرکت کر سکے۔ اس پیش رفت کو دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں محتاط مگر مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق بنگلہ دیشی وفد 20اعلیٰ سرکاری افسران پر مشتمل ہوگا، جن میں ایڈیشنل سیکرٹریز، جوائنٹ سیکرٹریز اور تربیتی اداروں کے سینئر حکام شامل ہیں، جو بنگلہ دیش کی اہم وزارتوں اور ڈویژنز کی نمائندگی کریں گے۔ وفد میں ڈاکٹر محمد میزان الرحمٰن (ایڈیشنل سیکرٹری، اکنامک ریلیشنز ڈویژن)، ڈاکٹر ابو شاہین ایم اشاد الزمان (ایڈیشنل سیکرٹری، شماریات و انفارمیشن مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ) اور ڈاکٹر محمد محسن علی (سینئر عہدیدار، بنگلہ دیش پبلک ایڈمنسٹریشن ٹریننگ سینٹر) شامل ہیں۔ اسی طرح مس سلمیٰ صدیقہ مہتاب، ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ سروسز ڈویژن بھی وفد کا حصہ ہوں گی۔ اکیڈمی ذرائع کے مطابق تربیتی پروگرام میں پبلک پالیسی، گورننس اصلاحات، معاشی نظم و نسق اور انتظامی جدت جیسے اہم موضوعات پر توجہ مرکوز کی جائے گی، یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے اور دونوں فریق تکنیکی، ثقافتی اور انتظامی شعبوں میں روابط کے فروغ میں دلچسپی ظاہر کر رہے ہیں، اگرچہ وسیع تر سیاسی حساسیتیں بدستور موجود ہیں۔ دونوں جانب کے حکام نے اس دورے کو پیشہ ورانہ روابط کی بحالی کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیتے ہوئے اس امر پر زور دیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان مشترکہ انتظامی ورثہ بنگلہ دیش کے قیام سے قبل کا ہے، جسے دوبارہ فعال بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اہم خبریں سے مزید