• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

دنیا میں سالانہ 24 کروڑ سے زائد افراد بھنگ اور ویڈ کے عادی

کراچی (رفیق مانگٹ) دنیا میں سالانہ 24 کروڑ سے زائد افراد بھنگ اور ویڈ کے عادی، سب سے زیادہ استعمال ہونے والی منشیات، ہائی پوٹنسی نشے والی مصنوعات سے صحت کو خطرات لاحق، بھنگ اور ویڈ میں پہلے 3 سے 5 فیصد ٹی ایچ سی نامی نشہ اور کیمیکل ہوتا تھا اب 90 فیصد پہنچ گیا۔ دل کے دورے کا خطرہ 29 فیصد، فالج 20 فیصد جبکہ اموات دگنا سے زائد ہو گئی۔ نوجوانوں میں نفسیاتی امراض ڈپریشن کا خطرہ دگنا، ذہنی دباؤ گھبراہٹ کے کیسز میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ دنیا بھر میں بھنگ کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے، اور اقوام متحدہ کے ادارہ برائے منشیات و جرائم کی 2025 رپورٹ کے مطابق 2023 میں تقریباً 24.4 کروڑ افراد نے اس کا استعمال کیا، جو اسے دنیا کی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی غیر قانونی منشیات بناتا ہے۔ اسی دوران امریکی پالیسی میں بھنگ کی درجہ بندی میں نرمی اور مارکیٹ میں زیادہ طاقتور THC مصنوعات کی دستیابی نے اس بحث کو مزید بڑھا دیا ہے,وال اسٹریٹ جرنل کی رپورٹ کے مطابق ماضی میں بھنگ میں نشہ دینے والا کیمیکل (Tetrahydrocannabinol) THC کی مقدار 3 سے 5 فیصد تھی، لیکن اب بعض مصنوعات میں یہ 90 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جس سے صحت کے سنگین خطرات بڑھ گئے ہیں ،یاد رہے پہلے زمانے میں بھنگ میں نشہ دینے والا یہ کیمیکل بہت کم ہوتا تھا، یعنی 100 میں سے صرف 3 سے 5 حصے۔ آج کل نئی مصنوعات میں یہی مقدار 90 حصے تک ہے. ماہرین کے مطابق اس غیر معمولی اضافہ نے ذہنی دباؤ، گھبراہٹ اور ایمرجنسی کیسز میں اضافہ کیا ہے، خاص طور پر کھانے والی بھنگ میں نشے کی مقدار کا اندازہ مشکل ہوتا ہے، اس لیے لوگ غلطی سے زیادہ لے کر گھبراہٹ کا شکار ہو جاتے ہیں،اور ایسا لگتا ہے جیسے وہ مر رہے ہوں۔ تحقیقات کے مطابق بھنگ کا تعلق ذہنی صحت کے مسائل سے واضح طور پر جڑا ہوا ہے۔ جاما انٹرنل میڈیسن اور دیگر مطالعات کے مطابق اس کا استعمال اضطراب اور ڈپریشن کو بعض صورتوں میں بڑھا سکتا ہے، جبکہ کچھ افراد میں یہ علامات کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔ خاص طور پر زیادہ طاقتور THC والے مواد میں یہ اثر زیادہ نمایاں ہے۔ ماہرین کے مطابق روزانہ بھنگ استعمال کرنے والے افراد میں تقریباً 20 سے 30 فیصد افراد Cannabis Use Disorder (CUD) کا شکار ہو سکتے ہیں،یعنی یہ ایک نشے کی بیماری ہے جس میں انسان بھنگ استعمال کرنے کا عادی ہو جاتا ہے اور اسے چھوڑ نہیں پاتا۔ جس میں شخص کو مسلسل خواہش، انحصار اور استعمال کم کرنے میں ناکامی کا سامنا ہوتا ہے ۔ نوعمر دماغ پر بھنگ کے اثرات سب سے زیادہ تشویشناک قرار دیے جا رہے ہیں۔ نوجوانی میں استعمال کرنے والوں میں نفسیاتی امراض ، بائی پولر ڈس آرڈر اور ڈپریشن کا خطرہ دوگنا ہو جاتا ہے، جبکہ طویل المدتی استعمال سے آئی کیواور یادداشت میں کمی بھی دیکھی گئی ہے۔ قلبی امراض کے حوالے سے جریدہ ہرٹ کے مطابق بھنگ استعمال کرنے والوں میں دل کے دورے کا خطرہ 29 فیصد، فالج کا خطرہ 20 فیصد جبکہ قلبی اموات کا خطرہ دو گنا سے زائد پایا گیا۔ محققین نے اسے تمباکو کی طرح خطرناک قرار دینے کی سفارش کی ہے۔ ڈرائیونگ کے حوالے سے بھی خطرات بڑھ رہے ہیں۔ امریکن کالج آف سرجنز (2025) کی تحقیق کے مطابق حادثات میں جاں بحق ہونے والے ڈرائیوروں میں سے 41.9 فیصد کے خون میں THC موجود تھا، جو قانونی حد سے کئی گنا زیادہ تھا۔ طبی فوائد کے حوالے سے ایک جامع تحقیق میں 2500 سے زائد مطالعات کا تجزیہ کیا گیا، جس میں صرف چند مخصوص حالات جیسے کیموتھراپی کی متلی، مرگی اور ایچ آئی وی میں بھوک کی کمی کے لیے مضبوط شواہد ملے۔ دیگر عام امراض جیسے ڈپریشن، PTSD اور درد شقیقہ کے لیے شواہد ناکافی پائے گئے۔ تحقیقات یہ بھی ظاہر کرتی ہیں کہ بھنگ بعض افراد میں اضطراب کو کم کرنے کے بجائے بڑھا سکتی ہے۔ 53فیصد مطالعات میں اضطراب کے بگڑنے اور 41فیصد میں ڈپریشن کے بڑھنے کے شواہد ملے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ اثرات خاص طور پر ذہنی بیماریوں کے مریضوں میں زیادہ شدید ہو سکتے ہیں۔

اہم خبریں سے مزید