• بانی: میرخلیل الرحمٰن
  • گروپ چیف ایگزیکٹووایڈیٹرانچیف: میر شکیل الرحمٰن

آبنائے ہرمُز کی بندش، خلیجی معیشتیں جنگ و امن کے بیچ معلق

دبئی (اے ایف پی)ایران پر حالیہ حملوں اور آبنائے ہرمز کی عملی بندش کے بعد خلیجی ریاستیں ایک غیر یقینی صورتحال سے دوچار ہیں، جہاں جنگ اور امن کے درمیان معلق حالت نے معاشی بحالی کے عمل کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے نہ صرف خلیجی ممالک کی توانائی برآمدات کو نشانہ بنایا بلکہ توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی نقصان پہنچایا، جس کی مکمل بحالی میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔ اگرچہ ایک نازک جنگ بندی برقرار ہے، تاہم نئے حملوں کا خدشہ بدستور موجود ہے، جس سے تیل کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی اقتصادی سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ اسرائیل کی ممکنہ عسکری کارروائیاں بھی کسی بھی ممکنہ معاہدے کو سبوتاژ کر سکتی ہیں۔مذاکرات تاحال تعطل کا شکار ہیں، جن کا محور آبنائے ہرمز اور یورینیم افزودگی جیسے معاملات ہیں خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ آیا کوئی ایسا معاہدہ ممکن ہو سکے گا جو ایران کے اس اہم گزرگاہ پر کنٹرول کو محدود کرے اور اس کے میزائل و پراکسی نیٹ ورکس کو قابو میں رکھے۔
اہم خبریں سے مزید