کراچی (نیوز ڈیسک) ایران نے جنگی غیر یقینی کے دوران معیشت کا رخ بنیادی ضروریات کی طرف موڑ دیا۔ حکومت نے ضروری اشیا کے لیے سستا زرِ مبادلہ دوبارہ بحال کیا، خوراک اور ادویات کی درآمد کیلئے اربوں ڈالر مختص، قومی خودمختار فنڈ سے بھی ایک ارب ڈالر نکالنے کا فیصلہ، شہری غیر یقینی کے باعث صرف بنیادی اشیا خریدنے لگے۔ برطانوی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایران نے جنگی حالات اور معاشی دباؤ کے پیش نظر اپنی اقتصادی ترجیحات کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کی جانب منتقل کر دیا ہے۔ تہران میں بظاہر معمولات زندگی بحال ہونا شروع ہوگئے ہیں، تاہم شہری بڑھتی مہنگائی اور غیر یقینی صورتحال کے باعث صرف خوراک، ادویات اور دیگر ناگزیر اشیا تک اپنی خریداری محدود کر رہے ہیں۔ حکومت نے گندم، بچوں کی خوراک، طبی سامان اور دواؤں کی درآمد کے لیے کم شرح پر زرِ مبادلہ دوبارہ متعارف کرایا ہے جبکہ قومی ترقیاتی فنڈ سے بھی ایک ارب ڈالر نکال کر غذائی ذخائر بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ عوام کے لیے ماہانہ مالی امداد میں اضافے پر بھی غور جاری ہے، لیکن مسلسل جنگ، بندرگاہوں پر دباؤ، انٹرنیٹ کی طویل بندش اور کاروباری سرگرمیوں میں کمی نے عام ایرانی شہریوں کی معاشی مشکلات میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے۔