کراچی (رفیق مانگٹ) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اسلام آباد کے حالیہ دوروں نے خطے میں جاری ایران امریکہ کشیدگی اور ممکنہ جنگ بندی مذاکرات کو ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ ایرانی خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق عراقچی کا یہ دورہ کسی جوہری مذاکرات سے متعلق نہیں بلکہ پاکستان کی ثالثی کے ذریعے جنگ کے خاتمے کیلئے تہران کی شرائط آگے پہنچانے کے سلسلے کی کڑی ہے۔تسنیم رپورٹ کے مطابق ایران نے پاکستان کو ایک اہم ثالث کے طور پر استعمال کرتے ہوئے جنگ بندی کیلئے اپنے بنیادی مطالبات پیش کیے ہیں۔ ان شرائط میں آبنائے ہرمز کیلئے ایک نیا قانونی اور انتظامی نظام، ایران کے خلاف مبینہ فوجی جارحیت کے خاتمے کی ضمانت، بحری ناکہ بندی کے خاتمے کا مطالبہ اور جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات پر ہرجانے کی ادائیگی شامل ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل جنگ بندی یا مذاکراتی پیش رفت کے لیے ان نکات پر پیش رفت ناگزیر ہے۔