کراچی (رفیق مانگٹ) امریکی مبصر ٹکر کارلسن کے پوڈکاسٹ میں سامنے آنے والی ایک متنازع ویڈیو نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے، جس میں لبنان میں ایک اسرائیلی فوجی حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے منسوب مجسمے کی بے حرمتی کررہا ہے،ٹکر کارلسن نے اس حوالے سے اسرائیلی کردار اور امریکا کی جانب سے اس کی حمایت پر سخت سوالات اٹھادیئے ہیں،ان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی نے مجسمے پر وار کیوں کئے،چرچوں کو نقصان، عیسائیوں پر حملے اور مذہبی علامات کی توہین ایک مسلسل رجحان کا حصہ ہے۔ اسرائیل میں عیسائیت کیخلاف رویوں پر نئی بحث شروع ہوگئی ہے ۔ ابتدائی طور پر اس ویڈیو کو جعلی اور مصنوعی قرار دیا گیا، مگر بعد ازاں اس کی صداقت کے دعووں نے معاملے کو مزید سنگین بنا دیا۔ کارلسن نے اس واقعے کو بنیاد بنا کر نہ صرف اسرائیل کے اندر عیسائیت کے حوالے سے رویوں پر سوال اٹھایا بلکہ امریکی انجیلیکل عیسائی قیادت کی غیر مشروط حمایت کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔پوڈکاسٹ میں کارلسن نے بنیادی سوال اٹھایا کہ ایک جنگی محاذ پر موجود فوجی کے لئےایسے عمل کی کیا وجہ ہو سکتی ہے۔ ان کے مطابق یہ محض ایک انفرادی واقعہ نہیں بلکہ ایک ممکنہ وسیع رجحان کی عکاسی کر سکتا ہے، جس میں مذہبی علامات کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ اگر یہ واقعہ حقیقی ہے تو اس کی وجوہات اور پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے، نہ کہ اسے محض پروپیگنڈا قرار دے کر نظر انداز کر دیا جائے۔اس واقعے پر اسرائیلی میڈیا اور تجزیہ کاروں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی ویڈیوز عالمی سطح پر اسرائیل کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔ بعض حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ ایران سے منسلک یا حزب اللہ کے حامی سوشل میڈیا اکاؤنٹس اس واقعے کو اسرائیل کے خلاف بیانیہ مضبوط کرنے کے لئے استعمال کریں گے، جس سے معلوماتی جنگ مزید تیز ہو سکتی ہے۔دوسری جانب امریکی عیسائی نشریاتی ادارے نے اس واقعے کو ایک محدود اور انفرادی عمل قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ کسی ایک تصویر یا ویڈیو کی بنیاد پر پورے اسرائیلی معاشرے یا فوج کے بارے میں عمومی نتیجہ اخذ کرنا درست نہیں۔ ان کے مطابق عیسائی برادری کو جذباتی ردعمل کے بجائے محتاط تجزیہ کرنا چاہیے اور ایسے واقعات کو وسیع تر تناظر میں دیکھنا چاہیے۔پوڈکاسٹ میں فلسطینی عیسائی کارکن ایلس کسیہ کا تفصیلی انٹرویو بھی شامل تھا، جوسیو المخور آرگنائزیشن کی بانی ہیں۔