سوات، مٹہ (نمائند گان جنگ) سوات میں دلخراش واقعہ سامنے آیا ہے جہاں ایک ماں نے اپنے دوسرے شوہر کے ساتھ مل کر اپنی 3 سالہ معصوم بیٹی کو گلا دباکر قتل کر دیااور پھر اس کی لاش کو کپڑے میں لپیٹ کر امانکوٹ کی پہاڑی میں ایک گھڑے میں دفن کردیا۔پولیس حکام کے مطابق تین سالہ بچی تمناان کے جرائم میں رکاوٹ بن رہی تھی۔ ایس پی انوسٹی گیشن سوات مشتاق خان نے ایس پی اپر سوات شوکت خان ، ایس ایچ او تھانہ خوازہ خیلہ محمد ایاز کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ ملزم انعام اللہ ولد شریف زادہ سکنہ اولندر شانگلہ نے خاتون عذرا کو اس کے پہلے شوہرزوجہ ناصر سکنہ اولندرشانگلہ حال سیرئی منگلور سے طلاق دلوا کر شادی کی اور بعد ازاں اسے اپنے جرائم میں شامل کر لیا، پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان نے بچی کومینگورہ میں ایک ہوٹل کے کمرے میں قتل کرنے کے بعد لاش امانکوٹ کی پہاڑی میں دفن کر دی، خوازہ خیلہ پولیس نے ملزمان کو سی سی ٹی وی فوٹیجز کی مدد سے موٹر سائیکل چوری کے مقدمے میں گرفتار کیا جن کے قبضے سے 14چوری شدہ موٹر سائیکلیں بھی برآمد ہوئیں، دورانِ تفتیش لرزہ خیز انکشاف ہوا کہ انہوں نے اپنی ہی بیٹی کو قتل کیا ہے، جس پر پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزم کی نشاندہی پر بچی کی لاش برآمد کر کے پوسٹ مارٹم کے لیے ہسپتال منتقل کر دی، پولیس کے مطابق واقعے کی مزید تفتیش جاری ہے جبکہ ملزمان کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے ۔