اسلام آباد (مہتاب حیدر) حکومت نے قومی خزانے سے 437.3ملین روپے کی لاگت سے ’’سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز‘‘ سپورٹ یونٹ قائم کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم اس منصوبے میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) کی جانب سے کوئی مالی تعاون شامل نہیں ہے۔ اس امر کی حقیقت جاننے کی بھی ضرورت ہے کہ 2016 میں 5سالہ مدت کیلئے 1000ملین (ایک ارب) روپے کی لاگت سے قائم کیےگئے ایس ڈی جیز سپورٹ یونٹ کی کارکردگی کیسی رہی۔ طے شدہ مفاہمت کے مطابق وفاقی حکومت نے 500ملین روپے فراہم کرنے تھے، جبکہ بقیہ 500ملین روپے کے برابر رقم ’’یو این ڈی پی‘‘ نے اخراجات میں شراکت داری کی بنیاد پر ادا کرنی تھی۔ حکومت نے اپنی جانب سے ان پانچ برسوں کے دوران 430 ملین روپے فراہم کیے، جبکہ پورا اقوامِ متحدہ کا نظام صرف 221ملین روپے کا تعاون کر سکا۔ اس طرح وفاقی حکومت کا حصہ 66.2فیصد رہا جبکہ اقوامِ متحدہ کا حصہ محض 33.8فیصد رہا۔ پلاننگ کمیشن اور یو این ڈی پی کے درمیان سخت کھینچا تانی جاری رہی، کیونکہ یو این ڈی پی نے اخراجات سے متعلق فیصلوں پر کبھی بھی پلاننگ کمیشن کو اعتماد میں نہیں لیا۔ پلاننگ کمیشن کے سابق ڈپٹی چیئرمین سرتاج عزیز نے یو این ڈی پی کے ساتھ کیے گئے ان ناقص انتظامات پر کئی اعتراضات اٹھائے تھے، جن کا ریکارڈ متعلقہ سرکاری فائلوں میں دیکھا اور پڑھا جا سکتا ہے۔ اس صورتحال کے بعد پلاننگ کمیشن نے ایس ڈی جیز سپورٹ یونٹ کو اپنے وسائل سے مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا اور 2022میں اپنے ہی سپورٹ یونٹ کی منظوری دے کر بھرتیوں کا عمل شروع کر دیا۔ تاہم، حکومت کی تبدیلی اور 2022کے سیلاب کے باعث یہ پروگرام بھی تعطل کا شکار ہو گیا۔ پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک تھا جس نے 2016 میں پائیدار ترقی کے اہداف کا انتظام یو این ڈی پی کے حوالے کیا تھا، اور اب 2026 میں اس فیصلے کو واپس لے لیا گیا ہے۔ اب وزیر منصوبہ بندی نے انتظام دوبارہ یو این ڈی پی کے حوالے کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزارت منصوبہ بندی نے ایک کانسیپٹ پیپر (تصوراتی دستاویز) کی منظوری لینے کا فیصلہ کیا ہے جس کے تحت 437.256 ملین روپے کی تخمینہ لاگت سے ایک منصوبہ شروع کیا جائے گا، جس میں یو این ڈی پی کی جانب سے ایک پائی کا مالی تعاون بھی شامل نہیں ہے۔ ایک بار جب یہ منصوبہ منظور ہو جائے گا۔